کم عمری کی شادیاں: جرمن حکام کے لیے ایک بڑا مسئلہ | معاشرہ | DW | 24.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

کم عمری کی شادیاں: جرمن حکام کے لیے ایک بڑا مسئلہ

جرمنی میں دو برس قبل کم عمری کی شادیوں کو ایک جرم قرار دے دیا گیا تھا۔ اس قانون سازی کا مقصد نوجوانوں کو جبری اور کم عمری کی شادیوں سے بچانا تھا لیکن ایک نئی رپورٹ کے مطابق یہ قانون کم ہی کارآمد ثابت ہو رہا ہے۔

جرمنی میں چائلڈ میرج کے انسداد کے لیے بنایا گیا قانون بائیس جولائی سن دو ہزار سترہ سے نافذالعمل ہے۔ اس وقت یہ کہا جا رہا تھا کہ اس قانون سازی کے بعد کم عمر نوجوانوں کی شادیوں کا سلسلہ رک جائے گا۔ اس قانون کے تحت شادی کے لیے کم از کم عمر اٹھارہ برس کر دی گئی تھی۔ اس قانون کے تحت ججوں کو یہ اختیار بھی دیا گیا تھا کہ وہ کم عمری کی شادیوں کو منسوخ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس قانون کے نافذالعمل ہونے کے بعد ایک ایسے شخص کی شادی منسوخ بھی کر دی گئی تھی، جس نے جرمنی سے باہر جا کر شادی کی تھی لیکن شادی کے وقت اس کی عمر سولہ سے سترہ برس کے درمیان تھی۔

تاہم جرمنی میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم 'ٹیرے دیس فیمس‘ لیکن اب اس قانون کی افادیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس تنظیم کے مطابق جب سے یہ قانون بنا ہے، اس کے بعد سے ملک بھر میں آٹھ سو تیرہ کم عمر نوجوانوں کی شادیاں کی گئی ہیں جبکہ ان شادیوں میں سے صرف دس فیصد کو ہی قانونی سطح پر منسوخ کیا گیا ہے۔

Infografik Länder mit der höchsten Anzahl an Kinderhochzeiten EN

اس تنظیم سے وابستہ مونیکا میشیل کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جرمنی میں کم عمری کی شادیوں سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنا ایک انتہائی مشکل امر ہے۔ ان کے مطابق جرمنی کی مختلف ریاستوں میں کوئی ایک مشترکہ نظام رائج نہیں ہے۔ اس حوالے سے ایک ہی ریاست میں مختلف ادارے کام کر رہے ہیں اور ان کا آپس میں ربط بھی مضبوط نہیں ہے۔

مونیکا میشیل کا حکومتی منصوبہ بندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ زیادہ تر شہروں میں ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس حوالے سے ذمہ دار ادارہ کونسا ہے؟ ان کا کہنا تھا، ''یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے درست اعداد و شمار جمع نہیں کیے جا سکتے۔ کم عمری کی شادیوں کی اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ ہر ویک اینڈ پر جرمنی میں کم عمر نوجوانوں کی شادیاں ہوتی ہیں۔‘‘

دوسری جانب مجموعی طور پر دنیا بھر میں کم عمری کی شادیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔  گزشتہ جمعے کے روز اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے اس حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ کم عمری کی شادیاں بھارت میں ہو رہی ہیں۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر بنگلہ دیش جبکہ تیسرے نمبر پر نائجیریا ہے۔ پاکستان اس فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے۔

ا ا / ع ح 

ملتے جلتے مندرجات