کمپیوٹر گیم میں شامی جنگ کے حقیقی مناظر | مہاجرین کا بحران | DW | 26.08.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کمپیوٹر گیم میں شامی جنگ کے حقیقی مناظر

جنگ کی تباہ کاریاں کسی بھی فرد کے ذہن کو مفلوج کر سکتی ہیں۔ ایسے افراد جو جنگ میں سب کچھ کھو چکے ہیں، انہیں دیکھ کر خوف ہوتا ہے کہ ڈرؤانے خواب حقیقت بھی بن سکتے ہیں۔ یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، ایک ویڈیو گیم کے ذریعے۔

آسٹریائی دارالحکومت ویانا میں مقیم شامی مہاجر عبداللہ کرم نے اپنے ملک میں جاری خانہ جنگی کی تباہ کاریاں انتہائی نزدیک سے دیکھیں۔ یہ اکیس سالہ نوجوان انہی حالات سے فرار ہو کر یورپ آن بسا ہے لیکن اس کے خیالات و تصورات ابھی تک خوف کی فضا سے جان نہیں چھڑا سکیں ہیں۔

مہاجرین کی فوری مدد کے لیے موبائل ایپ

اٹلی میں مہاجرین کی مدد کرنے والی ایپ

 

اس کی خواہش ہے کہ جو تجربات اسے ہوئے، وہ کسی اور کو نہ کرنا پڑیں۔ تاہم وہ ان ہولناکیوں کو ایک جرمن سوفٹ ویئر انجینئر گیورگ ہوبمائیر سے شیئر کر رہا ہے۔ ان دونوں کی کوشش ہے کہ ان سب تجربات کو عام لوگوں تک پہنچانے کی خاطر انہیں ایک کمپیوٹر گیم میں سمو دیا جائے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے گفتگو میں عبداللہ نے بتایا کہ ہوبمائیر کے ساتھ گفتگو اور اس کمپیوٹر گیم کی تیاری نفسیاتی سطح پر اس کے لیے بہت مددگار ثابت ہوئی ہے۔

Österreich Der syrische Grafiker Abdullah Karam- Computerspiel Path Out (picture-alliance/dpa/M. Al-Karam)

عبداللہ کہتے ہیں کہ اس گیم کو ڈیزائن کرنے کا بنیادی مقصد مہاجرین کی ابتر صورتحال کو نمایاں کرنا ہے

عبداللہ نے بتایا، ’’یوں مجھے یاد کرنے میں مدد ملتی ہے کہ میں کن حالات سے گزار۔ میں اپنی کہانی کو شیئر کر کے خود کو مضبوط محسوس کرتا ہوں۔‘‘ یہ گیم ابھی تک تیاری کے مرحلے میں ہے تاہم اس کا ایک ڈیمو ورژن جاری کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس کمپیوٹر گیم کا فائنل ورژن اکتوبر تک ریلیز کر دیا جائے گا۔

جرمن شہر کارلسروہے میں سکونت پذیر جرمن سوفٹ انجینیئر ہوبمائیر نے بتایا کہ عبداللہ سے اس کی پہلی ملاقات سالزبرگ میں ہوئی، ’’وہ وہاں کچھ ہفتوں سے مقیم تھا۔ وہ ویانا کی زندگی سے بہت زیادہ مطمئن تھا۔ اس کے پاس کچھ گرافکس بھی تھے۔‘‘

عبداللہ جب آسٹریا پہنچا تو اسے ہوبمائیر کے ایک دوست کے ساتھ رہائش کی سہولت ملی۔ ہوبمائیر کے مطابق عبداللہ کے پاس موجود جنگی مناظر کے گرافکس کی مدد سے کمپیوٹر گیم بنانے کا خیال بہت پہلے ہی آگیا تھا تاہم اس میں کچھ انتظامی مسائل درپیش تھے۔

اس گیم کا نام Path Out رکھا گیا ہے۔ اس گیم کے زیادہ تر مناظر حقیقی فوٹیج پر مبنی ہیں۔ ہوبمائیر کہتے ہیں کہ اس گیم کے ذریعے حقیقت ویڈیو میں سرائیت کر جاتی ہے۔ کھیلنے والے کو بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ گیم ایک سچی کہانی ہے۔

عبداللہ کہتے ہیں کہ اس گیم کو ڈیزائن کرنے کا بنیادی مقصد مہاجرین کی ابتر صورتحال کو نمایاں کرنا ہے۔ عبداللہ آج کل ویانا میں کمپیوٹر گیمنگ کے شعبے میں السٹریشن (مصوری) کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات