کمزور ہڈیوں کے باعث کمر کا شدید درد: اب سرجری ضروری نہیں | صحت | DW | 01.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

کمزور ہڈیوں کے باعث کمر کا شدید درد: اب سرجری ضروری نہیں

عام انسانوں میں بڑھتی عمر کے ساتھ ہڈیوں کے بنیادی ڈھانچے کی بتدریج کمزوری، جسے ہڈیوں کا آہستہ آہستہ نرم ہو کر کھوکھلا ہوتے جانا بھی کہا جاتا ہے، کے باعث کمر کے شدید درد کے علاج کے لیے اب شاید کوئی آپریشن ضروری نہ رہے۔

ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈم سے جمعہ یکم جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اس بارے میں ایک نیا طبی مطالعہ حال ہی میں ہالینڈ میں مکمل کیا گیا، جس کے نتائج نے بہت سے طبی محققین کی اب تک رائے کو بدل کے رکھ دیا۔

طبی ماہرین کے مطابق Osteoporosis ایک ایسی بیماری ہے، جس میں بڑھاپے کے ساتھ ساتھ جسمانی ضعف کے باعث ہڈیاں بھی اس طرح کمزور ہونے لگتی ہیں کہ ان میں جیسے چھوٹے چھوٹے سوراخ پیدا ہونے لگتے ہیں اور ان کی ہیئت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے کسی بھی مریض یا مریضہ کو پورے جسم خاص طور پر کمر میں انتہائی شدید درد بھی رہنے لگتا ہے کیونکہ یہی مرض ریڑھ کی ہڈی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

اس بیماری کے علاج کے لیے اب تک یہ طریقہ بھی اپنایا جاتا ہے کہ ماہر سرجن کمر کی سرجری کرتے ہوئے ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹ پھوٹ کے شکار مختلف مہروں میں ایک سرنج کے ذریعے سیمنٹ بھر دیتے ہیں۔ یوں ریڑھ کی ہڈی کے متاثرہ مہرے دوبارہ کچھ مستحکم ہو جاتے ہیں اور مریض کا انتہائی شدید کمر درد بھی کم ہو جاتا ہے۔ اس سرجری کو طبی اصطلاح میں ’ویرٹیبروپلاسٹی‘ کیا جاتا ہے۔

Osteoporose Makroaufnahme

انسانی کولہے کی ایک ہڈی کا سرا جو اوسٹیوپوروسِس کی وجہ سے بالکل کھوکھلا اور بہت نرم ہو چکا ہے

ہالینڈ میں Vertebroplasty پر کی گئی تجرباتی تحقیق کے دوران معالجین نے کیا یہ کہ ’اوسٹیوپوروسِس‘ کے مریضوں کے ایک گروپ کے نصف حصے کا علاج تو حسب معمول ریڑھ کی ہڈی کے غیر مستحکم مہروں میں سیمنٹ بھر کر سچ مچ کی ’ویرٹیبروپلاسٹی‘ سے کیا گیا۔

مریضوں کے اس گروپ کے دوسرے حصے کا، جنہیں کمر میں شدید درد کی وہی تکلیف تھی، درحقیقت کوئی علاج نہ کیا گیا لیکن انہیں یہ احساس دلایا گیا کہ جیسے ان کی کمر کے شکست و ریخت کے شکار مہروں میں بھی سیمنٹ بھر دیا گیا ہو۔ اس مقصد کے لیے ان مریضوں کو کمر کے متاثرہ حصے پر جسم کو سن کر دینے والے ٹیکے تو لگائے گئے لیکن اور کچھ بھی نہ کیا گیا۔

تجرباتی علاج کے اس عملی مظاہرے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس بات سے کسی مریض کو کوئی قابل ذکر فرق نہ پڑا کہ آیا اسے ریڑھ کی ہڈی میں سیمنٹ کے انجیکشن لگائے گئے تھے یا اس کا محض جھوٹ موٹ کا کوئی آپریشن کیا گیا تھا۔

نتائج کے تجزیے سے پتہ یہ چلا کہ جنہیں سیمنٹ کے انجیکشن لگائے گئے تھے، ان کی کمر کی تکلیف بھی واضح طور پر کم نہ ہوئی اور جنہیں محض جسم کے کچھ حصے کو سن کر دینے والے ٹیکے لگائے گئے تھے، انہیں یہ لگا کہ جیسے انہیں کمر درد میں کچھ افاقہ ہوا ہے۔

اس پر محققین اس نتیجے پر بھی پہنچے کہ ہڈیوں کو بتدریج کھوکھلا کر دینے اور بڑھاپے میں جسمانی ڈھانچے کو بہت نحیف بنا دینے والی اس بیماری کے علاج کے لیے عین ممکن ہے کہ شاید مستقبل میں ایسے کسی آپریشن کی کوئی ضرورت ہی نہ پڑے اور مریضوں کے علاج کے لیے کوئی نیا طریقہ دریافت کرنے کی کوشش کی جائے۔

م م / ع ح /  روئٹرز

DW.COM