کمانڈو فورس قانون سے بالاتر نہیں | حالات حاضرہ | DW | 03.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کمانڈو فورس قانون سے بالاتر نہیں

جرمن پارلیمان کی طرف سے فوج کے اندر انتہا پسندانہ رجحانات اور بھاری اسلحہ غائب ہو جانے پر باوردی افسران کی جوابدہی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

Sondereinsatzkommando auf einem Schnellboot vor der Karlsruhe

جرمنی کی منتخب قیادت میں تشویش پائی جاتی ہے کہ بعض سینئر جنرل ارکان پارلیمان کے سامنے روایتی شفافیت اور جوابدہی کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔

اس کا تعلق پچھلے سال منظر عام پر آنے والی ان اطلاعات سے ہے کہ فوج کے خصوصی کمانڈو دستوں نے قانون اور ڈسلپن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھاری تعداد میں فوجی اسلحہ غائب کردیا۔

جرمنی کی اسپیشل کمانڈو فورس "کے ایس کے"  کے کئی ارکان پر دائیں بازو کے سفید فام گروہوں کے قریب ہونے کا الزام بھی ہے۔

اراکین پارلیمان کو خدشہ ہے کہ "کے ایس کے" فورس کے ارکان نے یہ اسلحہ خود اِدھر اُدھر کیا لیکن فوجی قیادت ان کی سرزنش کرنے کی بجائے انہیں تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کمانڈو کیوں بدنام ہوئے؟

جرمنی کے خصوصی کمانڈو دستے ملک کے جنوب مغربی حصے میں تعینات ہیں۔ یہ دستے مغویوں کو چھڑانے میں مہارت رکھتے ہیں اور بیرون ملک انسداد دہشتگری کی کارروائیوں کے لیے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔

پچھلے سال ایسا مواد سامنے آیا جس میں ان میں سے بعض فوجی ہٹلر کا سلیوٹ کرتے دیکھے گئے۔ ساتھ ہی یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ ان فوجیوں کو ڈیوٹی کے لیے دیا جانا والا اسلحہ غلط ہاتھوں میں جا رہا ہے۔

سول ملٹری تنازع

یہ اطلاعات جرمنی کی منتخب حکومت کے لیے سخت پریشانی کا باعث بنیں۔ وزارت دفاع نے فوری طور پر ان الزامات کی تفتیش کا حکم دیا۔ ان تحقیقات کے نتائج اگلے چند ماہ میں متوقع ہیں۔

ساتھ ہی حکومت نے کمانڈوز کے پیشہ وارانہ معاملات کو شفاف بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کرانے کا حکم کیا۔

لیکن اسی دوران فوج نے اپنی ایک اندرونی تفتیش کی رپورٹ جاری کردی، جس میں مبینہ طور پر کمانڈوز کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔

چوری یا دفتری غلطی؟

اکتوبر میں جرمن فوج کے انسپیکٹر جنرل کی طرف سے جاری کی جانے والی اس  رپورٹ کے مطابق اسلحہ غائب ہوجانے کے واقعات کو "کلریکل" یا دفتری غلطی قرار دیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ فوج نے اپنی یہ رپورٹ جاری کرنے سے پہلے ملک کی وزیر دفاع کو اعتماد میں نہیں لیا۔

یہی نہیں بلکہ فوج کے بریگیڈئر جنرل مارکس کرائٹمائر نے "کے ایس کے" کے دستوں کو یہ پیشکش بھی کردی کہ انہیں معافی عام دی جاتی ہے کہ اگر وہ اپنے ساتھ کوئی فوجی ہتھیار لے گئے تھے، تو اسے خاموشی سے واپس جمع کرادیں، انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔

فوجی حکام کے مطابق اس پیشکش کے بعد پچھلے سال مارچ اور مئی کے دوران فوجیوں نے پچیس ہزار گولیوں اور دستی بموں سمیت دیگر آتشی ساز وسامان جمع کرا دیا۔

فوجی قیادت نے اس وقت اپنی اس متنازعہ پیشکش کے بارے میں پارلیمانی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا۔ تاہم منتخب قیادت کی طرف سے تنقید کے بعد سینئر فوجی قیادت نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ان کی غلطی اور اب وہ تمام تفصیلات اراکین پارلیمان کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں۔

فوج پارلیمان کو جوابدہ

اس سارے قضیے میں سینئر فوجیوں کی طرف سے بظاہر عدم شفافیت پر جرمنی کے سیاستدان سیخ پا ہیں۔ انہیں شک ہے کہ سینئر فوجی افسران اپنے کمانڈوز کو جوابدہی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جرمن سیاستدانوں کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہے اور اگر کمانڈوز نے قانون توڑا تو ان کی سزا میں کمی پر تو غور کیا جاسکتا ہے لیکن پوری طرح معاف کرکے کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔

ان کی نظر میں ایسا کرنا فوج کے ڈسپلن اور احتساب کے اصولوں کے منافی ہوگا۔

جرمنی میں قوانین کے مطابق فوجیوں کو صرف آن ڈیوٹی ہتھیار رکھنے کی اجازت ہے۔ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد وہ فوج کا ہتھیار نہ گھر لے جا سکتے ہیں، نہ ساتھ لے کر پھر سکتے ہیں۔ دستی بموں جیسا اسلحہ اپنے پاس رکھنا خلاف قانون ہے۔