کل کا مہاجرين دوست ملک سويڈن، آج اتنا مختلف کيوں؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 13.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کل کا مہاجرين دوست ملک سويڈن، آج اتنا مختلف کيوں؟

سويڈن ميں ايک مہاجر کے ہاتھوں پانچ افراد کے قتل کے تناظر ميں غير قانونی تارکين وطن کے خلاف حکومتی کريک ڈاؤن زيادہ موثر اور سخت تر کر ديا گيا ہے۔

DW.COM

يورپی رياست سويڈن ميں پچھلے چند مہينوں کے دوران غير قانونی تارکين وطن کے گرد گھيرا تنگ کيا جا رہا ہے۔ متعدد کمپنيوں ميں بغير اندراج والے ملازمين کا ريکارڈ جمع کيا گيا اور کمپنيوں کو خبردار کيا گيا ہے کہ وہ ايسے افراد کو ملازمت پر نہ رکھيں۔ مئی ميں پوليس نے دارالحکومت اسٹاک ہوم کی ايک زير تعمير عمارت پر چھاپہ مارا۔ اس کارروائی کے نتيجے ميں نو افراد کو گرفتار کيا گيا جبکہ چاليس ديگر فرار ہونے ميں کامياب رہے۔

سويڈن ميں ويسے تو مہاجرين کے حوالے سے عوامی رائے زيادہ سخت نہ تھی تاہم اسی سال اپريل ميں سياسی پناہ کے ايک ناکام درخواست دہندہ ازبک شہری رحمت اخيلوو کے ہاتھوں پانچ افراد کے قتل کے بعد حکام نے غير قانونی تارکين وطن کے خلاف کارروائياں تيز تر کر دی ہيں۔ اخيلوو نے اسٹاک ہوم کی ايک مارکيٹ ميں سات اپريل کو ایک دہشت گردانہ حملے میں ٹرک چلاتے ہوئے پانچ افراد کو ہلاک اور چودہ کو زخمی کر ديا تھا۔ قبل ازيں اس کی پناہ کی درخواست رد کر دی گئی تھی۔

اسٹاک ہوم پوليس ميں سرحدوں کی نگرانی سے متعلق محکمے کے سربراہ جيرک ويبرگ کا کہنا ہے کہ ان کے سامنے کافی کام پڑا ہے۔ ويبرگ بائيس برس کے ہيں اور اب تک سينکڑوں غير قانونی تارکين وطن کو پکڑ چکے ہيں۔

دوسری جانب سويڈن کے وزير برائے امرِ مہاجرت،  مورگن يوہانسن کے مطابق روزگار کی ايک ايسی دوہری منڈی جس ميں ايک گروپ معاشرے سے باہر رہ کر کام کر رہا ہو اور اسے رہائش کی اجازت تک نہ ہو، ناقابل قبول ہے۔ 

دس ملين آبادی والی يورپی رياست سويڈن کو کچھ ہی عرصے قبل ’انسانی بنيادوں پر مدد کرنے والی ايک سپر پاور‘ کہا جاتا تھا۔ اس ملک ميں مشرق وسطی اور شمالی افريقہ سے آنے والے پناہ گزينوں کو دل و جان سے قبول کيا جاتا تھا تاہم گوتھن برگ يونيورسٹی کے اسی سال کرائے جانے والے ايک سروے ميں يہ بات سامنے آئی ہے کہ باون فيصد شہری کم تعداد ميں سياسی پناہ دينے کے حق ميں ہيں جب کہ چوبيس فيصد سرے سے ہی تارکين وطن کے خلاف ہيں۔ دو سال قبل مستحق افراد کو پناہ دينے کی تعداد ميں کٹوتی کے حق ميں چاليس فيصد شہریوں نے اپنی رائے دی تھی۔

اشتہار