کشمیر کا لاوا | دستک | DW | 11.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

کشمیر کا لاوا

گوہر گیلانی کا قصور کیا ہے؟ کشمیری ہونا، صحافی ہونا یا پھر کشمیر میں برسوں سے پکنے والے لاوے پر کتاب لکھ ڈالنا؟ شاہ زیب جیلانی کا بلاگ

ہفتہ اکتیس اگست کے دن بھارت سے چند صحافی جرمنی روانہ ہونے کے لیے نئی دہلی ایئرپورٹ پہنچے۔ سارے مسافر جہاز پر سوار ہو گئے لیکن گوہر گیلانی کو الگ کر کے روک لیا گیا۔

گوہر گیلانی کے خلاف کوئی پرچہ نہیں، شکایت نہیں، الزام نہیں۔ ان کا تعلق دنیا کے ایک خوبصورت لیکن بدقسمت خطے سے ہے۔ ان کا کام اپنے قلم کے ذریعے وہاں کے لوگوں کی آواز دنیا تک پہنچانا ہے۔ لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک میں آزادی صحافت داؤ پر ہے اور اظہار رائے بظاہرجرم بن چکا ہے۔

گوہر گیلانی ماضی میں جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے میں کام کر چکے ہیں۔ اس بار وہ ڈی ڈبلیو میں ٹریننگ اور ملازمت کی پیشکش کے سلسلے میں آ رہے تھے۔ ڈی ڈبلیو میں ان کی پرانے ساتھی انہیں ایک بے باک صحافی کے طور پہ جانتے ہیں۔

بیرون ملک جا کر کئی صحافی اپنے لوگوں اور ان کے  مسائل سے کٹ جاتے ہیں۔ لیکن  گوہر گیلانی جتنا عرصہ جرمنی میں رہے ان کے اندر کشمیر کی تڑپ کم ہونے کی بجائے بڑھتی گئی۔

Shahzeb Jillani DW Mitarbeiter Urdu Redaktion (DW)

شاہ زیب جیلانی

 

انہوں نے پانچ سال ڈی ڈبلیو میں کام کیا۔ سن دو ہزار دس میں وہ واپس بھارت چلے گئے اور پھر وہاں سے کشمیر پر رپورٹنگ کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نےکشمیر کے اندر نوجوانوں میں بے چینی اور غم و غصے  بڑھتا ہوا پایا۔ دنیا کی نظروں سے اوجھل وادی کشمیر میں پکنے والے اس لاوا کو سمجھانے کے لیے انہوں نے ایک کتاب پر کام شروع کیا۔

'کشمیر: ریج اینڈ ریزن‘ کے عنوان سے گوہر گیلانی کی یہ کتاب چند ماہ پہلے ہی منظر عام پر آئی۔ کشمیر کے معاملے پر بھارتی میڈیا سیلف سینسر شپ کا شکار نظر آتا ہے۔ لیکن کتاب چونکہ انگریزی میں ہے اس لیے بھارت کے انگریزی میڈیا میں اس پرکافی تبصرے اور تجزیے شائع ہوئے۔

ادیبوں اور دانشورں نے کہا کہ کتاب کشمیریوں کی حقیقی آواز ہے جس میں وہاں کے لوگوں کے جذبات کو بڑے مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ کتاب کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے روایتی موقف کے لیے ایک آئینہ ہے، جس میں اس تنازعے کے اصل فریق ہی مرکزی کردار ہیں۔  

 لیکن جہاں پڑھے لکھے حلقوں میں اتنی پذیرائی ملی وہیں بھارت کے  حکومتی حلقوں کی طرف سے ان پر تنقید بھی ہوئی۔ کسی نے انہیں 'علحیدگی پسند‘ پکارا،کسی نے 'بھارت مخالف‘ توکچھ اپنے ہی دوستوں نے انہیں یہ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کی کہ اب وہ صحافی نہیں بلکہ سیاسی کارکن بن چکے ہیں۔

بہرحال کام کرنے والے صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں کو اس نوعیت کے الزامات کا سامنا رہتا ہے۔ لیکن جب ریاست اور ادارے اسے جواز بنا کر آپ سے آپ کے بنیادی حقوق چھین لیں تو وہی ہوتا ہے جو گوہر گیلانی اور ان جیسے کئی صحافیوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔  

 گوہر گیلانی پچھلے کئی روز سے نئی دہلی عارضی طور پر مقیم ہیں۔ بھارتی حکومت نے ابھی تک انہیں بیرون ملک سفر پر پابندی کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی۔ وہ نہیں جانتے ان پر یہ پابندی کتنے عرصے کے لیے ہے اور وہ دوبارہ کب سفر کر پائیں گے۔ ان کے روزگار کا کیا ہوگا؟ ملک کے اندر جن کو ان کا کام کھٹکتا ہے وہ انہیں مزید کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ کیا کشمیر میں ان کے گھر والے محفوظ ہیں؟

پچھلے ایک ماہ کے دوران آزادئ صحافت اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر پر عائد پابندیوں پر بارہا مذمتی بیانات جاری کیے ہیں۔ گوہر گیلانی کے معاملے پر بھی بھارت اور کشمیر میں صحافتی تنظیموں سمیت ایمنسٹی انٹرنیشنل اور رپوٹرز ودآؤٹ بارڈرز جیسی تنظیمیں بھی بیانات جاری کر چکی ہیں۔ 

لیکن بظاہر مودی سرکار کو عالمی رائے عامہ کی کوئی پرواہ نہیں۔  ایسے میں مغربی مملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے چیمپئن اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت میں آزادی صحافت کے لیے آواز اٹھائیں۔

بھارت اگر سمجھتا ہے کہ گوہر گیلانی اور دیگر کشمیری صحافیوں کی زبان بندی سے کشمیریوں کا درد دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو جائے گا  تو یہ اس کی خام خیالی ہوگی۔ ریاستیں جتنا چاہیں ڈرائیں، دھمکائیں اور دبائیں، لوگوں کے غم و غصے کا لاوا آخر تو ابل پڑتا ہے۔ لیکن اگر کشمیر کا غصہ آتش فشاں بن کر پھٹ پڑا تو اپنے ساتھ بہت کچھ بہا لے جا سکتا ہے۔

 

DW.COM