کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی ’ڈیجیٹل اپارتھائیڈ‘ | حالات حاضرہ | DW | 26.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی ’ڈیجیٹل اپارتھائیڈ‘

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے ایک معروف گروپ نے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے مواصلاتی بلیک آؤٹ ’ایک اجتماعی سزا‘ہے۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے ایک معروف گروپ نے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے مواصلاتی بلیک آؤٹ 'ایک اجتماعی سزا‘ ہے۔ اس گروپ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئی دہلی کے اس 'ڈیجیٹل اپارتھائیڈ‘ یا 'ڈیجیٹل عصبیت‘ پر اس سے جواب طلب کرے۔

'جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی‘  کی طرف سے 125 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں ''اگست 2019ء سے جموں و کشمیر میں جاری ڈیجیٹل پابندیوں کے سبب نقصانات، لاگت اور اس کے سبب ہونے والے نقصانات کا احاطہ کیا گیا ہے۔‘‘ بھارت نے پانچ اگست 2019ء کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا تھا اور ساتھ ہی اس خطےکا باقی دنیا کے ساتھ مواصلاتی رابطہ بھی منقطع کر دیا تھا۔

کشمیر:فرضی تصادم میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکت، تفتیش کا وعدہ

مودی کے معتمد منوج سنہا جموں و کشمیر کے نئے لیفٹیننٹ گورنرمقرر

کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کشمیریوں کے لیے شدید غم وغصے کا سبب بنا اور اسی سبب بھارتی حکومت نے مظاہروں اور ردعمل سے بچنے کے لیے سخت سکیورٹی لاک ڈاؤن کرتے ہوئے اس خطے کا باقی دنیا کے ساتھ مواصلاتی رابطہ بھی مکمل طور پر منقطع کر دیا۔ ان اقدامات سے لاکھوں کشمیری نہ صرف بے روزگار ہو گئے بلکہ تعلیم اور صحت کا نظام بھی مفلوج ہو کر رہ گیا۔

Internetsperre in Kaschmir

'کشمیر انٹرنیٹ سِیج‘ کے نام سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، '' ڈیجیٹیل حقوق کا انکار، اس خطے کے عوام کے لیے ایک منظم امتیازی سلوک، ڈیجیٹل جبر اور مشترکہ سزا کے برابر ہے۔‘‘

'کشمیر انٹرنیٹ سِیج‘ کے نام سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، '' ڈیجیٹیل حقوق کا انکار، اس خطے کے عوام کے لیے ایک منظم امتیازی سلوک، ڈیجیٹل جبر اور مشترکہ سزا کے برابر ہے۔‘‘

بھارتی حکام مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ انٹرنیٹ پر پابندی کا مقصد بھارت مخالف احتجاج اور علیحدگی پسندوں کی طرف سے حملوں کے خطرات کو روکنا ہے۔ یہ علیحدگی پسند کئی دہائیوں سے بھارتی زیر انتظام کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی حکام کا یہ بھی استدلال ہے کہ اس طرح کی پابندیاں کشمیری عوام کی بھارت کے ساتھ انضمام میں مددگار اور معاشی بہتری کا سبب ثابت ہوں گی۔ ساتھ ہی یہ بھارت مخالف گروپوں اور پاکستان سے خطرات میں کمی لانے میں بھی معاون ہوں گی۔ 

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں اگست 2019 سے اب تک 5.3 بلین ڈالرز کے برابر مالی نقصان ہو چکا ہے جبکہ قریب پانچ لاکھ افراد کے بے روزگار ہوئے ہیں۔

ا ب ا / ب ج (اے پی، روئٹرز)