’کشمیر میں استصواب رائے کرانے سے دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 20.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’کشمیر میں استصواب رائے کرانے سے دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ڈی ڈبلیو کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ مودی حکومت بھارت کو سیکولر بنیادوں سے ہٹا کر قوم پرستی کی جانب لے گئی ہے۔

ڈی ڈبلیو: جمعرات کے روز کشمیر میں حملے کے بعد یوں لگ رہا ہے جیسے پاکستان اور بھارت کے مابین ایک مرتبہ پھر جنگ کا ماحول بن رہا ہے۔ آپ کے خیال میں یہ کشیدگی کیسے کم کی جا سکتی ہے؟

بلاول بھٹو: پہلے تو میں اس حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ پاکستان پیپلز پارٹی تشدد پر یقین نہیں رکھتی اور ہم ہر قسم کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بھارتی عوام اس وقت بہت جذباتی ہیں۔ وہ غم زدہ ہیں، غصے میں ہیں اور پریشان ہیں۔ لیکن سیاست دانوں اور خاص طور پر رہنماؤں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ ایسے غیر ریاستی گروہوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں جو پاکستان اور بھارت کے عوام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور ان کے مابین پرامن تعلقات نہیں چاہتے۔

بلاول بھٹو کا مکمل انٹرویو دیکھیے:

ویڈیو دیکھیے 11:47

ڈی ڈبلیو کے ساتھ بلاول بھٹو کا مکمل انٹرویو

دوسری بات، پاکستان پیپلز پارٹی کشمیر میں استصواب رائے چاہتی ہے تاکہ کشمیری عوام جمہوری طریقے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں اور ہم اس کے نتائج تسلیم کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مجھے یقین ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی بھی ختم ہو جائے گی۔ لیکن جہاں تک پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کی بات ہے تو میرے خیال میں یہ اہم بات یہ ہے کہ آپس میں بات چیت کی جائے۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں کے دوران، خاص طور پر مودی حکومت کے قیام کے بعد، بھارت کے ساتھ زیادہ بات چیت نہیں ہوئی۔ لیکن امن دوست پاکستانیوں اور امن دوست بھارتیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے قیام امن پر زور دیں۔

پاکستان اور بھارت کے مابین قیام امن میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟ اتنے برسوں کے دوران متعدد کوششیں کی گئیں لیکن سب بے سود رہیں۔

میرے خیال میں متعدد مسائل ہیں۔ یقینی طور پر دونوں ممالک میں دہشت گردی ایک مسئلہ ہے اور مسئلہ کشمیر بھی دونوں ممالک کے لیے اہم ہے۔ بدقسمتی سے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جب سے بھارت میں نريندر مودی حکومت ميں آئے ہيں، وہ بھارت کو اس کی سیکولر بنیادوں سے ہٹاتے ہوئے زیادہ قوم پرست حکومت کی جانب لے گئے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ امن کی کوششوں کے حوالے سے کوئی دلچسپی دکھائی نہیں ديتی۔ بھارت میں عام انتخابات منعقد ہونے والے ہیں تو شاید اپنے عوام کے لیے مودی صاحب زیادہ داخلی اور جارحانہ پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ انتخابات کے بعد کوئی راہ نکلے گی۔

لیکن پاکستان میں بھی تو اس وقت کوئی سیکولر حکومت نہیں ہے۔

نہیں، یہ درست ہے۔ لیکن بھارت اپنی سیکولرازم اور برداشت کے حوالے سے پہچان رکھتا ہے۔ بھارت بڑا اور امیر ملک ہے، جمہوریت بھی بڑی ہے۔ اسے بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کی جانب ہاتھ بڑھانا چاہیے، پاکستان بھی ہاتھ ملانے کو تیار ہے۔

ش ح / ع س (انٹرویو: شامل شمس)