کشمیر: عمران خان کی ’مسلمانوں کی نسل کشی‘ کے خلاف تنبیہ | حالات حاضرہ | DW | 30.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کشمیر: عمران خان کی ’مسلمانوں کی نسل کشی‘ کے خلاف تنبیہ

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں نئی دہلی حکومت کے کریک ڈاؤن کے خلاف پاکستان میں ہزاروں احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے نریندر مودی حکومت پر کشمیر میں ’جنگی جرائم‘ کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے۔

جمعہ تیس اگست کے روز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان بھر میں سائرن بجائے گئے جبکہ تمام بڑے شہروں میں چند منٹوں کے لیے ٹریفک کو بھی روک دیا گیا۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ہزاروں افراد جمع ہوئے، جہاں وزیر اعظم عمران خان نے ان سے خطاب کیا۔ عمران خان کا اس خطاب میں کہنا تھا کہ وہ متنازعہ خطہ کشمیر کے لیے اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے، جب تک اسے 'آزاد‘ نہیں کرا لیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا، ''ہم اپنی آخری سانس تک کشمیر کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘‘ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی براہ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں 'فاشسٹ‘ قرار دیا اور ان کا موازنہ نازی جرمن رہنما 'اڈولف ہٹلر‘ سے کیا۔

ویڈیو دیکھیے 01:33

پاکستانی عوام کا کشمیریوں سے اظہار یک جہتی

عمران خان نے بین الاقوامی برادری کو  بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے نظر ہٹانے کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر حملہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے نئی دہلی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان پر کوئی حملہ کیا گیا، تو اس کا 'مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔

پاکستان میں آج نکالی گئی ریلیاں اس احتجاجی سلسلے کا حصہ تھیں، جو ہفتہ وار بنیادوں پر پاکستان بھر میں جاری رہے گا۔ احتجاج کا یہ سلسلہ آئندہ ماہ اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت نہیں کرتے۔ وہ جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اب چوتھا ہفتہ ہے کہ وہاں کمیونیکیشن بلیک آؤٹ جاری ہے اور لوگوں کی نقل و حرکت ابھی تک انتہائی محدود رکھی گئی ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اب تک ہزاروں افراد کو قید بھی کیا چکا ہے۔

جب سے بھارت نے اپنے زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی ہے، تب سے پاکستانی وزیر اعظم نے وسیع پیمانے پر سفارتی کوششوں کا آغاز کر رکھا ہے تاکہ نئی دہلی حکومت کے اقدامات کا سفارتی سطح پر مقابلہ کیا جا سکے۔

ا ا / م م (اے ایف پی، اے پی)

Audios and videos on the topic