کشمیر پر بھارتی فوجی افسر کا بیان، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل | حالات حاضرہ | DW | 18.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کشمیر پر بھارتی فوجی افسر کا بیان، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

بھارتی افسر میجر جنرل ریٹائرڈ ایس پی سنہا نے ٹی وی پر بحث کے دوران  کشمیری جنگجوؤں کی جانب سے ہندو پنڈتوں کے ساتھ مبینہ زیادتیوں  کا حل 'موت کے بدلے موت اور ریپ کے بدلے ریپ' تجویز کیا۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پروگرام کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزبان سابق فوجی کو خاموش ہونے کا کہہ رہی ہیں۔ شو کے باقی شرکاء اور حاظرین نے بھی ان کے بیان پر شدید احتجاج کیا۔

بھارت میں انسانی حقوق کے  کارکن ساکت گھوکلے نے ٹوئٹر پر کہا کہ انہوں نے بھارتی آرمی چیف کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے ایس پی سنہا کے کہے گئے الفاظ کی وضاحت مانگی  ہے اور فوج کو ان کی پینشن بند کرنے اور ان کا عہدہ واپس لینے کی بھی درخواست کی ہے۔

نتاشا کول نامی ایک سرگرم صحافی کا کہنا تھا،'' وہ لوگ جو ایسے لوگوں اور ایسی آوازوں کو جگہ فراہم کرتے ہیں اور انہیں قابل قبول بناتے ہیں وہ بلاشبہ اس ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔‘‘

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ٹوئٹر پر کہا،'' بی جے پی کے رہنما میجر جنرل ریٹائرڈ ایس پی سنہا نے ٹی وی پر خواتین کو ریپ کرنے کی حمایت کی ہے۔ ذرا سوچیں 'بھارت کے مقبوضہ کشمیر‘ میں عورتوں کی قسمت، جہاں ایسے مرد بغیر کسی خوف کے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیوں نے ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔‘‘

پاکستانی صحافی ثنا بچہ کا کہنا تھا،'' اسی لیے تو اس تنازع سے سب سے زیادہ متاثر کشمیری خواتین ہوئی ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں جموں کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے الزامات لگا چکی ہیں۔ بھارت ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔