کشمير ميں ہندو آباد کاری کا منصوبہ | حالات حاضرہ | DW | 12.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کشمير ميں ہندو آباد کاری کا منصوبہ

بھارتی حکمران جماعت مسلم اکثريت والے علاقے کشمير ميں ہندو آباد کاری کے ايک منصوبے کو بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے پہلے سے تقسيم کے شکار اس علاقے ميں کشيدگی بڑھے گی۔

بھارتيہ جنتا پارٹی کے کشمير سے متعلق امور کے ليے جنرل سيکرٹری رام مادھوو نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سن 1989 ميں شروع ہونے والی مسلح عليحدگی پسند تحريک کے نتيجے ميں فرار ہونے والے دو سے تين لاکھ ہندوؤں کو دوبارہ کشمير ميں آباد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مادھوو نے ايک حاليہ انٹرويو ميں کہا، ’’ان کے اپنی وادی ميں واپسی کے بنيادی حق کا احترام کيا جانا چاہيے۔‘‘ مادھوو کے بقول يہ ضروری ہے کہ انہيں سکيورٹی فراہم کی جائے۔

متنازعہ کشمير روايتی حريف ممالک پاکستان اور بھارت کے درميان کشيدگی کا ايک مرکزی معاملہ ہے۔ دلکش مناظر و خوب صورت مقامات سے پھرپور وادی کشمير کی آبادی لگ بھگ سات ملين افراد پر مشتمل ہے۔ ان ميں ستانوے فيصد تناسب مسلمانوں کا ہے۔ تاہم مسلح عليحدگی پسند تحريک کے خلاف برسرپيکار ہزاروں بھارتی دستے بھی اس علاقے ميں تعينات ہيں۔ پچھلی تين دہائيوں کے دوران پر تشدد حملوں اور جوابی کارروائيوں ميں پچاس ہزار کے قريب افراد مارے جا چکے ہيں۔

رام مادھوو نے بتايا کہ بی جے پی کی پچھلی حکومت کے دوران کشمير ميں باقاعدہ آباد کاری اور اس مقصد کے ليے تنصيبات کے قيام کی بات چيت جاری تھی البتہ کسی حتمی منصوبے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا تھا۔ يہ امر اہم ہے کہ ايسے منصوبوں کو مقامی جماعتوں، علاقائی مسلم قيادت اور ماضی ميں فرار ہونے والے ہندوؤں کی نمائندگی کرنے والوں کی حمايت حاصل نہيں۔ اور بھارتی وزارت داخلہ نے بھی فی الحال ايسے منصوبوں کی توثيق نہيں کی ہے۔

چار برس قبل رياستی حکومت کی جانب سے پيش کيے گئے ايک بلو پرنٹ ميں ديواروں کے اندر سخت سکيورٹی کے ساتھ آباديوں کی تجويز دی گئی تھی۔ ان آباديوں ميں باقاعدہ اسکول، ہسپتال، ميدان اور ديگر سہوليات قائم کرنے کا کہا گيا تھا۔

علاقائی عليحدگی پسند گروہوں نے ان منصوبوں کا مقبوضہ فلسطين ميں اسرائيلی آباد کاری سے موازنہ کرتے ہوئے ان کی مخالفت کی تھی۔ يوں اس منصوبے پر اس وقت کام رک گيا تھا۔

رام مادھوو کا اب ماننا ہے کہ يہ منصوبہ بحال کيا جا سکتا ہے اور اس بار اسے پايہ تکميل تک پہنچايا جانا بھی ممکن ہے۔ اپنے منصوبے کی کامياب تکميل کے ليے بے جی پی بڑی مسلم علاقائی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی جگہ اس بار مقامی سطح پر اتحاد کی حکمت عملی اختيار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مختلف مسلم عليحدگی پسند تحريکوں کی نمائندہ تنظيم آل پارٹيز حريت کانفرنس نے پچھلے ماہ چند ايسے ہندوؤں سے ملاقات کی جو ہجرت کر کے کشمير سے چلے گئے تھے۔ ان ہندوں کو ’پنڈت‘ کہا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کے چيئرمين مير وائض عمر فاروق نے بعد ازاں کہا، ’’ان کو کالونيوں ميں باڑ کے اندر رکھنا ايک کميونٹی کو دوبارہ آباد ضم کرنے کے ارادے کی نفی کرتا ہے۔‘‘ ان کے بقول برادریاں باہمی عزت و احترام کے ساتھ پنپتی ہيں۔۔

ویڈیو دیکھیے 01:51

مسئلہ کشمير پر برلن میں دستاویزی فلم کی نمائش

ع س / ک م، نيوز ايجنسياں

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات