’کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 31.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے‘

مرزا غالب کے مصرعے ’اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے‘ کو چیلنج کیا احمد فراز نے اور کہا، ’کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے‘۔ 2018 ء کی آمد پر دونوں شعراء کے الفاظ کی روشنی میں کشور مصطفیٰ کی تحریر۔

2017ء دنیا بھر میں کئی شدید زلزلوں، افراتفری کی صورت حال اور متعدد بحرانوں کا سال ثابت ہوا۔ دنیا ایک عالمگیر گاؤں بن چکی ہے اور عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات کے اثرات تمام اقوام عالم پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں 2017 ء کے ان اہم واقعات پر اک نظر، جنہوں نے بہت حد تک عالمی سیاسی بساط کا منظر نامہ بدل کے رکھ دیا:

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا آغاز

20 جنوری 2017 ء کو امریکا کے 45 ویں صدر کے طور اپنے عہدے کا حلف اُٹھاتے ہوئے ریپبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کے ساتھ ساتھ اقوام عالم کو جس طرح کے پیغامات دینے کا سلسلہ شروع کیا، اس سے نہ صرف ٹرمپ کے مخالفین اور ترقی پسند دم بخود رہ گئے بلکہ دنیا کو یہ تشویش بھی لاحق ہونا شروع ہو گئی کہ ٹرمپ اپنی پالیسیوں سے عالمی سیاست کا دھارا کس طرف موڑنا چاہتے ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی امریکا کے لیے ایک تنہائی پسندانہ اور معاشی تحفظ پسندانہ پالیسی کا انتخاب کیا، جس سے امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد ناخوش ہے۔ ’پہلے امریکا‘ کا ٹرمپ کا نعرہ نہ صرف چین بلکہ روس اور یورپ کے لیے بھی لمحہ فکریہ بن گیا۔

اس کے علاوہ امریکا کے غیر معمولی حد تک بھارت کی طرف جھکاؤ اور افغانستان اور پاکستان کے بارے میں نئی حکمت عملی کے اعلان نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین واضح دوری پیدا کر دی۔ ٹرمپ کی ایک اہم پالیسی، جس سے پوری مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، کا تعلق چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا کے سفر پر لگائی جانے والی پابندی سے تھا۔ شاید ٹرمپ اپنے اس فیصلے میں لچک کا مظاہرہ کر دیں؟ اس امید پر پانی پھیرتے ہوئے امریکی سپریم کورٹ نے ابھی دسمبر میں ہی اس پابندی کے حق میں اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے اسے قانونی حیثیت دے دی۔ امریکا کی طرف سے پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ اب بھی جاری ہے۔

بریگزٹ

جون 2016 ء میں برطانیہ میں بریگزٹ کے موضوع پر ہونے والی ووٹنگ اور اس یورپی ملک کے یورپی یونین سے اخراج کے فیصلے نے نہ صرف یورپی ممالک بلکہ بھارت اور پاکستان جیسے سابقہ نو آبادیاتی معاشروں پر بھی اثرات مرتب کیے۔ مارچ 2017ء میں برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے یورپی یونین کے لزبن معاہدے کے آرٹیکل پچاس پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرنے کے لیے اس تاریخی دستاویز پر دستخط کر دیے، جس کے تحت برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء  کا عمل شروع ہوا۔

برطانیہ اور یورپی یونین کی چوالیس سالہ رفاقت جب اپنے اختتام کو پہنچے گی، تو مارچ 2019ء تک برطانیہ کی یونین کی طرف واپسی کے تمام رستے بند ہو چکے ہوں گے۔ بریگزٹ کے فیصلے کے بعد جرمن شہریت ‌حاصل کرنے والے برطانوی باشندوں کی تعداد چار گنا ہو گئی۔ جرمنی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  گزشتہ برس جتنے غیر ملکیوں نے جرمن شہریت حاصل کی، ان میں برطانوی باشندوں کا تناسب تو نسبتاً کم رہا لیکن ماضی کے مقابلے میں 2016ء میں جرمن شہریت اختیار کر لینے والے برطانوی باشندوں کی تعداد میں 360 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

جرمنی کے وفاقی دفتر شماریات کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں برطانوی عوام کے  فیصلے کے سامنے آنے کے بعد اسی سال جرمنی میں مجموعی طور پر 2,865 برطانوی شہریوں نے مقامی شہریت حاصل کی۔ وہ جنوبی ایشیائی باشندے جو عشروں سے برطانیہ میں آباد ہیں، ان کی اور ان کی آئندہ نسلوں کی معاشی، معاشرتی اور روزگار کی صورتحال کیا شکل اختیار کرے گی، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔

جرمنی کے لیے بھی برطانوی عوام کا بریگزٹ کے حق میں فیصلہ کوئی خوش آئند بات نہیں تھی۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے برطانیہ کو متنبہ بھی کر دیا تھا کہ وہ اپنی مالی ذمے داریوں کے بارے میں بالکل واضح رہے اور اس سلسلے میں مراعات کی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو۔

روہنگیا مہاجرین کا بحران

مسلم اقلیتی برادری روہنگیا کا وہ بحران جو 2015 ء میں لاکھوں افراد کی میانمار اور بنگلہ دیش سے نقل مکانی کی شکل میں عالمی میڈیا میں توجہ کا باعث بنا تھا، اس کی بدترین شکل 2017 ء میں دیکھنے میں آئی۔ میانمار میں، جہاں ہر دس میں سے نو باشندے بدھ مت کے پیروکار ہیں، روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ میانمار حکومت انہیں اپنا شہری تسلیم نہیں کرتی اور قریبی یا پڑوسی ممالک جیسے کہ بنگلہ دیش اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کے اقتصادی بوجھ کو اٹھانے کے لیے کسی صورت تیار نہیں۔ روہنگیا باشندوں کے ساتھ ہونے والے ظلم وستم اور غیر انسانی سلوک کی بدترین شکل رواں سال اگست میں اُس وقت سامنے آنا شروع ہوئی، جب میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا پناہ گزیوں نے اپنی برادری کے ساتھ اجتماعی قتل، نسل کُشی اور منظم طریقے سے خواتین اور بچوں کے جنسی استحصال اور ریپ کی کہانیاں بیان کرنا شروع کیں۔ میانمار کی فوج اس بارے میں تردید کرتی رہی ہے اور اُس کا کہنا ہے کہ وہ پولیس چوکیوں اور فوجی اڈوں کو روہنگیا مسلمانوں کے حملوں سے بچانے کے لیے عسکری اقدامات کرتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق نسلی تطہیر کے شکار کم از کم چار لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار چھوڑ کر پہلے ہی در بہ در ٹھوکریں کھا رہے تھے کہ اگست سے اب تک زیادہ تر بنگلہ دیش پہنچنے والے ان مہاجرین کی تعداد میں مزید ساڑھے چھ لاکھ سے زائد کا اضافہ ہو گیا۔

بیسویں صدی سے روہنگیا اقلیت کی شناخت اور ان کو قبول نہ کرنے کی داستان بس چلی ہی آ رہی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ میانمار کے پڑوسی ممالک تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائشیا تک کہہ رہے ہیں کہ روہنگیا ان کا مسئلہ نہیں ہیں۔ یعنی اس وقت روہنگیا اقلیت واقعی ایک ایسا بے وطن گروپ بن چکی ہے جسے کوئی اپنا کہنے کو تیار نہیں۔

مشرق وسطیٰ کی مزید تقسیم اور سعودی عرب کا کردار

2017 ء کے اختتام پر مسلم دنیا میں ایک تاریخی دراڑ نظر آ رہی ہے۔ سعودی عرب کے ایماء پر  مسلم ممالک کے عسکری بلاک کے قیام کے نظریے نے شیعہ سُنی تقسیم کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی ہے: شیعہ اکثریتی ایران کی ہمسایہ ہونا، سعودی عرب میں کٹر وہابی نظریات کی حامل بادشاہت کے ساتھ پرانے اسٹریٹیجک تعلقات اور پھر ریاض اور واشنگٹن کے گٹھ جوڑ سے علاقائی طاقتوں پر پڑنے والا دباؤ۔ ان سب باتوں کے وسط میں پاکستان کے لیے بہت نازک علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال سے کامیابی سے نمٹنا واقعی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

سعودی عرب میں سیاسی اصلاحات اور نام نہاد ترقی پسندی کی جو لہر دیکھنے میں آئی، اس کے خد و خال اور مستقبل پر اس کے اثرات ہنوز غیر واضح ہیں۔ سعودی بادشاہ سلمان کی طرف سے اپنے پسندیدہ بیٹے محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر کیے جانے کو بھی دنیا نے بڑی توجہ سے دیکھا تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ 32 سالہ شہزادہ محمد، جو کافی مقبول بھی ہیں اور بہت ’بزنس مائنڈڈ‘ بھی، مغربی دنیا کے ساتھ کیسے چلیں گے۔ ایک جرمن اخبار ’دی سائٹ‘ نے تو انہیں’بدعنوان، لالچی اور خود غرض‘ بھی قرار دے دیا تھا۔

سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تعلقات اپنی بد ترین سطح پر ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے امریکا کی مدد سے یمن میں جنگ کا آغاز کرنے پر ریاض کو عالمی سطح پر تنقید کا بھی سامنا ہے۔ یمن کی جنگ بدترین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ قطر کا تنازعہ بھی اتنی آسانی سے پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی سخت خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے انہیں ’جنگی شہزادہ‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کے حقوق اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک پر بہت زیادہ تنقید کی جاتی ہے۔ رواں برس اس قدامت پسند معاشرے میں خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دے کر سعودی حکام نے گرچہ کوشش کی کہ اس ضمن میں سعودی عرب کی ساکھ بہتر بنائی جائے، لیکن یہ اقدام کسی بھی صورت کافی نہیں سمجھا جا رہا۔

جرمنی کا سیاسی منظر نامہ

2017 ء اس ’آئرن لیڈی‘ کے لیے ایک کٹھن سال ثابت ہوا، جن کے تین بار متواتر چانسلر رہنے کے بعد چوتھی بار بھی چانسلرشپ کے لیے منتخب ہونے کے امکانات روشن  تھے۔ جرمنی میں چوبیس ستمبر کو وفاقی پارلیمانی انتخابات میں اپنی جماعت کو ملنے والے اکثریتی ووٹوں کے بعد چانسلر میرکل نے نئی مخلوط وفاقی حکومت کے قیام کے لیے قدامت پسند یونین جماعتوں سی ڈی یو اور سی ایس یو کی طرف سے ماحول پسندوں کی گرین پارٹی اور ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی یا ایف ڈی پی کے ساتھ جو ابتدائی مذاکرات شروع کیے تھے، وہ ناکام ہو گئے جس کی وجہ  ترقی پسندوں کی طرف سے غیر متوقع طور پر یہ اعلان  بنا کہ نئی مخلوط حکومت کے قیام کے لیے میرکل کی پارٹی کرسچین ڈیموکریٹک یونین اور اس کی ہم خیال جماعت کرسچین سوشل یونین کے ساتھ کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

حکومت سازی کے عمل میں اس مرتبہ میرکل کے پاس امکانات بہت کم ہیں۔ نو منتخب وفاقی پارلیمان میں پہلی بار دائیں بازو کی عوامیت پسند جماعت 'متبادل برائے جرمنی‘ یا اے ایف ڈی بھی 12.6 فیصد ووٹ لے کر نمائندگی حاصل کر چکی ہے اور اسے ساتھ ملا کر کوئی بھی جماعت حکومت سازی نہیں کرنا چاہتی۔ اب ملک میں نئے عام الیکشن کے انعقاد سے بچنے کے لیے میرکل ایس پی ڈی کے ساتھ مل کر ہی حکومت بنا سکتی ہیں اور اس جماعت نے یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ اس صورت میں وہ قدامت پسندوں کی یونین جماعتوں کے ساتھ بات چیت کر تو سکتی ہے، لیکن اس کا فیصلہ سوشل ڈیموکریٹس کے سیاسی رہنما خود نہیں بلکہ اس پارٹی کا ایک وفاقی کنونشن کرے گا۔ اس طرح جرمنی میں نئی وفاقی حکومت اب نئے سال 2018ء ہی میں بن سکے گی۔ ایسا غالباً ایسٹر کے تہوار کے آس پاس موسم بہار میں ممکن ہو سکے گا۔ جرمنی میں یہ سیاسی صورتحال دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک پہلی بار پیدا ہوئی ہے۔

پاکستان اور غیر واضح مستقبل

پاکستانی سیاستدانوں اور عوام دونوں ہی کے لیے 2017ء بہت بھاری سال رہا۔ سال کے آغاز پر ہی 21 جنوری کو پارا چنار کی ایک سبزی مارکیٹ میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے۔ چند روز بعد ہی سولہ فروری کو سیہون میں لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے خود کش بم حملے میں بھی 90 سے زائد زائرین لقمہ اجل بنے تھے۔ اسی برس جون کے مہینے میں کوئٹہ اور ایک بار پھر پارا چنار میں ہونے والے بم دھماکوں میں مزید 90 سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ دہشت گردانہ حملوں کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ یہاں تک کہ دسمبر آ گیا، جس کے بارے میں پہلے ہی سے خوف پایا جاتا تھا کہ کرسمس کے آس پاس کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا تھا۔ انتہا پسندی کا بازار ایک بار پھر گرم ہوا اور 17 دسمبر کو کوئٹہ کے ایک چرچ پر دو خود کش بمباروں کے حملے میں نو افراد ہلاک اور 57 زخمی ہو گئے۔

ان تمام واقعات نے دنیا بھر، خاص طور سے مغرب میں پائے جانے والے اس تصور کو مزید پختہ کر دیا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال ہنوز دگرگوں ہے۔ تاہم  پاکستان میں اس صورتحال، دھرنوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود نوجوان طبقہ ہر شعبہ زندگی میں فعال اور مثبت کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ کراچی، اسلام آباد اور لاہور کی سڑکیں اب پھر رات دیر گئے تک مصروف اور پرہجوم رہتی ہیں۔

کشور مصطفیٰ، ڈی ڈبليو شعبہ اردو کی سربراہ

کشور مصطفیٰ، ڈی ڈبليو شعبہ اردو کی سربراہ

لیکن ایک اہم سوال اپنی جگہ  ہے کہ نئے سال ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ آئے گی؟ اس سال جولائی میں سپریم کورٹ کی طرف سے متفقہ فیصلے کے تحت وزیر اعظم نواز شریف کے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد سے ملک میں سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ 2018 ء عام انتخابات کا سال ہے۔ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ آئندہ مہینوں میں کیا شکل اختیار کرے گا، اس بارے میں عوام ابھی بے یقینی سے گزر رہے ہیں۔ 2018 ء میں آنے والی ممکنہ سیاسی تبدیلی یہ بھی بتائے گی کہ  207 ملين کی آبادی والے ملک میں تيس برس سے کم عمر کی ساٹھ فیصد آبادی کے لیے بھی کیا کیا جائے گا؟