کرکٹ: پاکستان کی طرف سے انگلش کاؤنٹی کا حصہ بننے پر فخر ہے، شاہین آفریدی | کھیل | DW | 28.04.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

کرکٹ: پاکستان کی طرف سے انگلش کاؤنٹی کا حصہ بننے پر فخر ہے، شاہین آفریدی

پاکستانی نوجوان فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں شمولیت سے فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ اس سال برطانیہ کے ڈومیسٹک سیزن میں دس پاکستانی کرکٹرز بطور اوورسیز پلیئرز کھیل رہے ہیں۔

انگلش کاؤنٹی چیمپئن شپ 2022ء میں پاکستان کی طرف سے شاہین شاہ آفریدی مڈل سیکس ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ دیگر پاکستانی کھلاڑیوں میں محمد عباس، حارث رؤف، حسن علی، شان مسعود، اظہر علی اور محمد رضوان  شامل ہیں۔

ہوم آف کرکٹ کے لقب سے مشہور لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں مڈل سیکس کی طرف سے لیسسٹرشائر کے خلاف میچ کھیلنے سے پہلے شاہین آفریدی  نے کہا، ''اس سال میں یہاں نو سے دس پلیئرز دیکھ رہا ہوں، جو کہ پاکستان کرکٹ کے لیے اچھی بات ہے۔‘‘

انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کی حالیہ پرفارمنس

انگلینڈ اور ویلز میں سن 2019 کے دوران کھیلے گئے ورلڈ کپ کے بعد کورونا وبا کے باوجود پاکستانی کھلاڑی برطانیہ کا اکثر دورہ کرتے دکھائی دیے ہیں۔

پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے اپنے گزشتہ دو دوروں میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی تھی۔ پاکستانی ٹیم انگلینڈ سے سن 2020 اور 2021ء میں کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 04:26

شاہین شاہ آفریدی مختلف بولر کیوں ہیں؟

اس بارے میں بائیں بازو سے تیز گیند کرنے والے بائیس سالہ شاہین آفریدی کہتے ہیں، '' ہم نے یہاں [انگلینڈ] میں بطور ٹیم اچھا پرفارم نہیں کیا، لیکن اب چونکہ ٹاپ پلیئرز یہاں ہیں، تو ہمیں پِچ اور حالات کو مزید بہتر طور پر جاننے میں مدد مل سکے گی۔ اس سے شاید قومی ٹیم کو بھی فائدہ مل سکے۔‘‘

ماضی میں پاکستان کرکٹ کے بڑے نام انگلش کاؤنٹی کرکٹ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں سابق وزیراعظم اور کرکٹر عمران خان، مشتاق محمد، صادق محمد، ماجد جہانگیر خان، ظہیر عباس، سرفراز نواز، مشتاق احمد، ثقلین مشتاق اور اصف اقبال کاونٹی کرکٹ چیمپییئن شپ کی مختلف ٹیموں میں کھیل چکے ہیں۔

دنیا بھر میں کرکٹ کے مختصر ترین فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی لیگز  کی وجہ سے اب بین الاقوامی کھلاڑی بیرون ملک ڈومیسٹک سیزن کو کھیلنے پر کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر انڈین پریمئر لیگ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے ٹاپ اسٹار کھلاڑی انگلش سیزن میں کھیلنے کے لیے دستیاب بھی ہیں اور اس کا حصہ بننے میں دلچسپی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

کاؤنٹی کرکٹ اور موجودہ پاکستانی کھلاڑی

شاہین شاہ آفریدی نے مڈل سیکس کے لیے اپنے پہلے میچ میں گلیمورگن کے خلاف جیت میں نمایاں کردار کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔ انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں چوٹی کے آسٹریلوی بلے باز مارنس لابوشین  کو دو مرتبہ آؤٹ کیا۔

اس کے علاوہ بائیں بازو سے بیٹنگ کرنے والے بیٹر شان مسعود نے ڈربی شائر کے لیے سیزن میں اب تک دو ڈبل سنچریوں کے ساتھ 611 رنز اسکور کیے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:10

باؤنسر میرا خفیہ ہتھیار ہے، حسن علی

ادھر لنکاشائر کے لیے حسن علی اور یارک شائر کے لیے حارث رؤف بھی اپنی تیز رفتار بولنگ سے کئی پلیئرز کو پویلین کا راستہ دکھا رہے ہیں۔

شاہین شاہ آفریدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی چند پاکستانی کھلاڑیوں سے برطانیہ میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے وہاں کچھ وقت ساتھ گزارا تھا۔

ع آ / ع ح (اے ایف پی)

DW.COM

Audios and videos on the topic