کروڑوں یورو مالیت کی دو پینٹنگز چرانے والا مشتبہ چور گرفتار | فن و ثقافت | DW | 06.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

کروڑوں یورو مالیت کی دو پینٹنگز چرانے والا مشتبہ چور گرفتار

نیدرلینڈز کی پولیس نے دو عظیم ڈچ مصوروں کی بنائی ہوئی اور اب کروڑوں یورو مالیت کی دو پینٹنگز چرانے والے ایک مشتبہ چور کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں سے ایک پینٹنگ ونسنٹ فان گوخ کی بنائی ہوئی ہے اور دوسری فرانس ہالس کی۔

’ڈچ گولڈن ایج‘ کے عظیم مصور فرانس ہالس نے یہ پینٹنگ (دو مسکراتے ہوئے لڑکے) تقریباﹰ چار سو سال پہلے بنائی تھی

’ڈچ گولڈن ایج‘ کے عظیم مصور فرانس ہالس نے یہ پینٹنگ (دو مسکراتے ہوئے لڑکے) تقریباﹰ چار سو سال پہلے بنائی تھی

ایمسٹرڈیم سے منگل چھ اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ڈچ پولیس نے بتایا کہ مشتبہ چور کی عمر 58 برس ہے اور اس پر شبہ ہے کہ گزشتہ برس فان گوخ اور فرانس ہالس کی بنائی ہوئی دو پینٹنگز اسی نے چوری کی تھیں۔

ڈاونچی کے پورٹریٹ کی صدیوں پرانی مسروقہ کاپی کی اچانک دریافت

یہ دونوں تصویریں 2020ء میں اس وقت چوری کی گئی تھیں، جب نیدرلینڈز میں سبھی عجائب گھر کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بند کیے جا چکے تھے۔

فان گوخ کی 'اسپرنگ گارڈن‘

ان میں سے فان گوخ کی 1884ء میں بنائی گئی پینٹنگ کا عنوان 'اسپرنگ گارڈن‘ یا 'نؤینن کا پارسنیج گارڈن‘ ہے، جو پینل ورک پر آئل سے بنائی گئی ایک پینٹنگ ہے۔

دنیا کی قدیم ترین غار پینٹنگ دریافت

فان گوخ کی یہ شاہکار تخلیق گزشتہ برس 30 مارچ کو علی الصبح ایمسٹرڈیم سے کچھ دور سنگر لارین میوزیم سے چرا لی گئی تھی۔

Malerei | The Parsonage Garden at Nuenen in Spring Vincent Van Gogh

فان گوخ کی 1884ء میں بنائی گئی یہ پینٹنگ (اسپرنگ گارڈن) بھی گزشتہ برس چوری کر لی گئی تھی

پیرس دہشت گردانہ حملے: چوری شدہ ’سوگ مناتی ہوئی لڑکی‘ برآمد

تب اس چوری کے لیے اس میوزیم کا شیشے کا مرکزی دروازہ توڑ دیا گیا تھا اور الارم بجنے کے بعد جب تک پولیس وہاں پہنچی تھی، تب تک چور یہ پینٹنگ چرا کر فرار ہو چکے تھے۔

فرانس ہالس کی پینٹنگ 'مسکراتے ہوئے لڑکے‘

فان گوخ کی پینٹنگ کی چوری کے بعد گزشتہ برس اگست میں نیدرلینڈز میں مصوری کے سنہری دور کے 'ماسٹر پینٹر‘ قرار دیے جانے والے مصور فرانس ہالس کی بنائی ہوئی ایک پینٹنگ بھی چوری کر لی گئی تھی۔

تقریباﹰ چار سو سال قبل 1626ء میں بنائی گئی اس پنٹنگ کو فرانس ہالس نے 'دو مسکراتے ہوئے لڑکے ایک بیئر مگ کے ساتھ‘ کا نام دیا تھا۔

کورونا کے باعث بند ڈچ میوزیم سے چھ ملین یورو کی پینٹنگ چوری

ہالس کا یہ شاہکار بھی اس طرح چرایا گیا تھا کہ اس جرم کے لیے ڈچ دارالحکومت سے تقریباﹰ 60 کلو میٹر جنوب کی طرف واقع لیئرڈم کے ایک چھوٹے سے میوزیم کا دروازہ بھی توڑ دیا گیا تھا۔

عظیم ڈچ مصور ریمبرانٹ کے انتقال کو تین سو پچاس سال ہو گئے

مالیت کروڑوں یورو

ان دونوں پینٹنگز کی مجموعی مالیت کروڑوں یورو بنتی ہے اور ان میں سے ہر ایک کئی کئی ملین یورو کے برابر قرار دی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق شواہد کی بنیاد پر مشتبہ چور کو گرفتار تو کر لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ بھی جاری ہے، تاہم ابھی تک دونوں چوری شدہ شاہکاروں میں سے کوئی ایک بھی برآمد نہیں ہوا۔

کلود مونے کی پینٹنگ کی ریکارڈ 111 ملین ڈالر میں نیلامی

پولیس نے مزید کوئی تفصیلات بتائے بغیر صرف یہ تصدیق کی کہ ملزم کو ایمسٹرڈیم کے مضافات میں بآرن کے قصبے میں اس کے فلیٹ سے گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کی رہائش گاہ اس سنگر لارین میوزیم سے زیادہ دور نہیں، جہاں سے فان گوخ کی شاہکار تخلیق 'اسپرنگ گارڈن‘ چرائی گئی تھی۔

م م / ک م (روئٹرز، ڈی پی اے)