کروڑوں بچے خسرے کی ویکسین سے محروم رہے | صحت | DW | 25.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

کروڑوں بچے خسرے کی ویکسین سے محروم رہے

سن 2010 سے سن2017 کے درمیان کروڑوں بچوں کو خسرے کے خلاف ویکسین کی پہلی خوراک سے محروم رہنا پڑا تھا۔ ویکسین کی پہلی خوراک کی عدم دستیابی کی تصدیق اقوام متحدہ کے بہبودِ اطفال کے ادارے یونیسیف نے کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق سن 2010 سے لے کر سن 2016 تک کے درمیانی عرصے میں ہر سال دو کروڑ سے زائد بچے خسرے کی ویکسین کی پہلی خوراک حاصل نہیں کر سکے تھے۔ خطرناک متعدی مرض خسرے کے لیے بچوں کو دی جانے والی ویکسین کی دو خوراک دینا ضروری ہوتا ہے تا کہ بچے بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔

یونیسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فورے کا کہنا ہے کہ خسرہ ایک انتہائی سنیگن متعدی بیماری ہے اور اس کے لیے مدافعتی ویکسین انتہائی بہت ضروری ہے۔ کروڑوں بچوں کو ویکسین کی عدم فراہمی کی وجہ بیان کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ رسائی میں مشکلات اور کمزور صحت کا نظام سب سے بڑی رکاوٹیں تھیں۔ ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں پندرہ فیصد بچے ویکسین سے محروم رہے۔

یونیسیف کی سربراہ کے مطابق ایک اور بڑی وجہ ویکسین کی فراہمی میں مختلف علاقوں میں اس دوا کے خلاف پائے جانے والے شکوک و شبہات ہیں۔ ان روکاٹوں کے خاتمے کے لیے مقامی حکومتوں کا کردار بہت نمایاں اور اہم ہے۔ ہینریٹا فورے نے مزید کہا کہ بچوں تک ویکسین پہچانے کے لیے مختلف ممالک میں انتظام کی بہتری اور فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ویکسین پروگرام کا تسلسل ہی بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کر سکے گا۔

Tumbes Peru Flüchtlinge aus Venezuela Grenze Ecuador (DW/O. Pieper)

ویکسین کی فراہمی میں مختلف علاقوں میں اس دوا کے خلاف پائے جانے والے شکوک و شبہات بھی ہیں

خسرےکے خلاف ویکسین بنانے والے ماہرین کا موقف ہے کہ اس بیماری کے وائرس کے خلاف مدافعت مناسب ویکسین سے ہی ممکن ہے۔ اگر اقوام عالم چاہتی ہیں کہ دنیا میں ہر بچہ اس بیماری سے محفوظ رہے تو اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ دنیا کے سبھی بچوں کو خسرے سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جائے۔ جرمنی میں ہر بچے کو خسرے کی ویکسین کی فراہمی لازمی ہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں خسرے کے مرض میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس باعث عالمی ادارہ صحت نے اس صورت حال کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے اسے ایک بڑا عالمی خطرہ قرار دیا ہے۔ ایسا بھی کہا گیا کہ امریکا میں خسرے کے مریضوں کی بڑھتی تعداد سے وہ دعویٰ کسی حد تک ختم ہو کر رہ گیا ہے کہ امریکا میں خسرے کی بیماری کا صفایا ہو چکا ہے۔

امریکا میں حیران کن انداز میں خسرے کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق خسرے کے نئے مریضوں کی موجودہ تعداد سن 2014 میں سامنے آنے والے 667 سے بڑھ گئی ہے۔ رواں برس کے دوران 695 افراد اس مرض میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ امریکا کی بائیس ریاستوں میں خسرے کے مرض کو موجودگی پائی گئی ہیں لیکن نیویارک اور واشنگٹن زیادہ متاثر ہیں۔

DW.COM