کروشيا ميں باسٹھ مہاجرين پکڑے گئے، کئی پاکستانی بھی شامل | مہاجرین کا بحران | DW | 18.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کروشيا ميں باسٹھ مہاجرين پکڑے گئے، کئی پاکستانی بھی شامل

کروشيا کی پوليس نے مشرقی يورپ ميں بلقان خطے سے گزرنے والے روٹ پر باسٹھ تارکين وطن کو پکڑ ليا ہے، جن ميں سے کئی کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ ان ميں اکثريتی مہاجرين کا تعلق افغانستان اور پاکستان سے بتايا جا رہا ہے۔

کروشيا کی پوليس نے ہفتے اور اتوار کی درميانی شب کارروائی کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے باسٹھ تارکين وطن کو حراست ميں لے ليا۔ يہ مہاجرين ايک وين ميں سفر کر رہے تھے اور جس وقت پوليس نے انہيں روکا، اس وقت ان ميں سے نصف سے زائد کو فوری طبی امداد درکار تھی۔

سربيا کے دارالحکومت بلغراد کو کروشيا کے دارالحکومت زغرب سے ملانے والی شاہراہ پر گشت کرنے والے پوليس اہلکاروں نے گنجائش سے زيادہ لدی ہوئی اس وين کو ديکھا، جس ميں سے دھواں نکل رہا تھا۔ يہ واقعہ زغرب سے 120 کلوميٹر کے فاصلے پر پيش آيا۔ گاڑی کا ڈرائيور موقع سے فرار ہو گيا۔ گاڑی پر سوار افراد ميں سے بياليس کو طبی امداد فراہم کی گئی کيونکہ دھوئيں ميں سانس لينے اور سرد موسم کے سبب ان کی طبيعت بگڑ گئی تھی۔

کروشيا کی ايمرجنسی ميڈيکل کيئر کے محکمے کے سربراہ نے بتايا کہ وين کے سامان رکھنے والے حصے ميں گھنٹوں گزارنے کی وجہ سے چند تارکين وطن بے ہوش ہو گئے تھے تاہم ان ميں سی کسی کی بھی جان کو خطرہ نہيں تھا۔ ان کا يہ بھی کہنا تھا کہ جس وقت گاڑی کو روکا گيا، اگر اس سے کچھ دير بعد ايسا کيا جاتا تو ممکن ہے کہ چند مسافروں کی حالت تشويش ناک ہوتی۔ امکان ظاہر کيا جا رہا ہے کہ تارکين وطن سربيا سے کروشيا ميں داخل ہوئے تھے اور ان کی حتمی منزل مغربی يورپی ممالک آسٹريا يا جرمنی تھے۔

يہ پيش رفت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کئی ملکوں کی جانب سے اپنی سرحديں بند کر ديے جانے کے باوجود بلقان خطے سے گزرنے والے ممالک سے غير قانونی ہجرت اب بھی جاری ہے۔ گزشتہ برس يورپ ميں ايک ملين سے زائد تارکين وطن کی آمد کے بعد اس سال يہاں پہنچنے والے مہاجرين کی تعداد ميں خاطر خواہ کمی تو رونما ہوئی ہے ليکن انسانوں کے اسمگلر اب بھی سرگرم ہيں۔

گاڑيوں ميں ايسا سفر خطرے سے خالی نہيں ہوتا۔ پچھلے سال اگست ميں اکہتر مہاجرين آسٹريا جاتے وقت ايک لاری ميں دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔