کرد کون ہیں؟ ترکی نے حملہ کیوں کیا؟ | حالات حاضرہ | DW | 15.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کرد کون ہیں؟ ترکی نے حملہ کیوں کیا؟

سوال یہ ہے کہ کرد کون ہیں اور ترکی نے شام میں کرد فورسز کے خلاف عسکری کارروائی کیوں شروع کی؟ کرد فورسز نے اسی تناظر میں شام کی حکومتی فورسز کے ساتھ بھی ایک ڈیل کی ہے، تاکہ ترک حملے کا مقابلہ کیا جائے سکے۔

شامی کرد فورسز ترک فوج کی عسکری پیش قدمی کو روکنے کی کوشش میں ہیں۔ ترک سرحد کے قریب ترکی کی فوج کی عسکری کارروائی اور شامی کردوں کی مسلح مزاحمت جاری ہے۔ اس لڑائی کی وجہ سے اس پورے خطے کے مستقبل کے حوالے سے بھی کئی طرح کے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

ترکی پر امریکی پابندیوں کا نفاذ

شامی فوج ترکی کے ساتھ سرحد پر، نیٹو کے ملوث ہو جانے کا خدشہ

امریکی فورسز کے شمالی شامی علاقوں سے انخلا کے بعد ترکی نے کردوں کے خلاف عسکری کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔ اس سے قبل شمالی شام میں کرد فورسز کو امریکی حمایت حاصل تھی۔ کرد فورسز ہی نے شمالی شامی علاقوں میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کو شکست دی تھی۔ دوسری جانب ترک حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں ایک 'محفوظ علاقہ‘ قائم کرنا چاہتی ہے، تاکہ ترکی میں موجود شامی مہاجرین کو دوبارہ وطن واپس بھیجا جا سکے۔

ترکی، شام، عراق اور ایران میں کرد اقلیت بستی ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے خودمختاری کے لیے کوشاں رہی ہے۔

کردوں کی تاریخ

کرد نسلی طور پر زیادہ تر سنی آبادی پر مشتمل ہیں اور ان کی زبان فارسی کے انتہائی قریب ہے، جب کہ کرد آرمینیا، عراق، ایران، شام اور ترکی کے سرحدی پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں۔

کرد قوم پرست تحریک کا آغاز سن 1890 میں سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے برسوں میں ہوا تھا۔ پہلی عالمی جنگ میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد سیورے کے معاہدے میں کردوں سے آزادی کا وعدہ کیا تھا۔ بعد میں ترک رہنما کمال اتاترک نے یہ معاہدہ توڑ دیا جب کہ سن 1924 کے لوزان کے معاہدے میں کردوں کے علاقوں کو مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں شامل کر دیا گیا تھا۔

شام، عراق، ایران اور ترکی میں کرد

شام میں سن 2011 میں حکومت مخالف تحریک کے آغاز کے وقت کرد شام کی مجموعی آبادی کا آٹھ سے دس فیصد تھے۔ شام میں کردوں کو کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی جب کہ ہزاروں کرد باشندوں کو شہری حقوق بھی دستیاب نہیں تھے۔ شام میں خانہ جنگی کے دور میں بشارالاسد کی حامی فورسز کی کارروائیاں زیادہ تر سنی عرب جنگجوؤں کے خلاف رہیں اور اس دوران شمالی شام میں کردوں نے خود ساختہ انتظام قائم کر لیا۔ اسد حکومت ان علاقوں پر دوبارہ قبضے کے عزم کا اظہار کرتی رہی ہے، تاہم دمشق حکومت اور کردوں کے درمیان بات چیت بھی جاری رہی۔ شامی کرد رہنما شمالی شام کی تقسیم نہیں چاہتے، تاہم وہ شام ہی کا حصہ رہتے ہوئے زیادہ علاقائی خودمختاری کے خواہاں ہیں۔

دہشت گرد گروہ اسلامک اسٹیٹ کی شکست میں کرد عسکری گروہ وائی پی جی نے امریکی حمایت اور تربیت کے ساتھ اہم کردار ادا کیا اور اس دوران اس کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف لڑائی میں کردوں کو سب سے بڑا فاتح قرار دیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں وہاں تیل، پانی اور زرخیز زمین کے علاوہ کرد فورسز کی موجودگی میں کردوں نے ایک طرح سے اپنی خودمختار حکومت قائم کر رکھی ہے۔

امریکی فورسز کے خطے سے انخلا اور کردوں کی جانب سے شامی فورسز کو ترکی سے تحفظ کے لیے مدعو کرنے نے اس خطے کے مستقبل پر کئی طرح کے سوالات لگا دیے ہیں۔

ترکی میں کرد مجموعی آبادی کا بیس فیصد کے قریب ہیں۔ ترکی میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سن 1984 سے ترکی کے جنوب مشرقی حصے کی خودمختاری کے لیے مسلح جدوجہد شروع کیے ہوئے ہے، جب کہ اس مسلح تنازعے میں مجموعی طور پر چالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کردستان ورکرز پارٹی کے رہنما عبدللہ اوچلان کو سن 1999 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں سزائے موت سنا دی گئی تھی، بعد میں ترکی میں سزائے موت پر پابندی لگ جانے کے تناظر میں ان کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا گیا تھا۔ سن 2012 میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور کرد رہنما اوچلان کے درمیان مذاکرات ہوئے، تاہم ان مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سے یہ تنازعہ دوبارہ شدت پکڑ گیا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ترکی کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین بھی کردستان ورکرز پارٹی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

اس تنظیم کے ارکان کے خلاف ترکی نہ صرف ملک کے اندر عسکری کارروائیاں کرتا رہا ہے بلکہ شمالی عراق کے پہاڑی علاقوں میں بھی ترک طیارے بمباری کرتے رہے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں متحرک وائی پی جی نامی کرد عسکری گروہ کردستان ورکرز پارٹی ہی کی شاخ ہے اور اس تنظیم کو کم زور کرنے کے لیے ترکی نے شمالی شام میں اپنی فوج بھیجی ہے۔

عراق میں کردوں کی تعداد مجموعی ملکی آبادی کا پندرہ سے بیس فیصد جب کہ ایران میں دس فیصد ہے۔ عراق میں صدام حسین کے دورِ حکومت میں کئی مرتبہ کردوں کے خلاف حملے کیے گئے بلکہ 80 کی دہائی میں تو کردوں کے دیہات پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال تک ہوا۔ سن 1991 سے تاہم شمالی عراق میں کرد اکثریتی علاقے نیم خودمختار حیثیت کے حامل ہیں۔ ایران میں کردستان ورکرز پارٹی کی ایک شاخ سمجھی جانے والی فری لائف آف کردستان کے خلاف بھی فورسز عسکری آپریشن کر چکی ہیں، جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایران میں کردوں کو معاشرتی تفریق کا سامنا ہے۔

DW.COM