کرتار پور کوریڈور کھلنے میں چند گھنٹے باقی لیکن لفظی جنگ کا سلسلہ جاری | حالات حاضرہ | DW | 08.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کرتار پور کوریڈور کھلنے میں چند گھنٹے باقی لیکن لفظی جنگ کا سلسلہ جاری

کرتارپور کوریڈورکھلنے میں اب صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت اور پاکستان کے درمیان لفظی جنگ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان سے آنے والی متضاد رپورٹوں کی وجہ سے معاملہ الجھاؤ کا شکار ہوگیا ہے۔ کرتارپور گردوارہ کی یاترا پرجانے والے بھارتی یاتریوں کے لیے ضروری دستاویزات کے متعلق پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا، ''پاکستان سے آنے والی خبریں گمراہ کن ہیں۔ پہلے وہ کہتے ہیں کہ پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ اب ضرورت ہوگی۔ ہمیں لگتا ہے کہ ان کی ایجنسیوں اور وزارت خارجہ کے درمیان کافی اختلافات ہیں۔ ہم نے کرتار پور کوریڈور کے سلسلے میں ایک معاہدہ کیا ہے۔ یہ بدل نہیں سکتا۔ اس معاہدہ کے مطابق پاکستان جانے والے یاتریوں کو پاسپورٹ کی ضرورت ہوگی۔‘‘

کرتارپور میں نہیں جاؤں گا تو اور کون جائے گا؟ سنی دیول

بھارت سے سکھ یاتری پاکستان پہنچنا شروع
رویش کمار کا مزید کہنا تھا، ''ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہے۔ اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ یاتریوں کو دستاویز لے کر آنا ہوں گی۔ ایسے میں اس معاہدہ میں لکھی باتوں کو یک طرفہ طور پر ہٹایا نہیں جاسکتا۔کسی طرح کی ترمیم کے لیے پہلے دونوں فریقین کو متفق ہونا پڑے گا۔‘‘
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی میڈیا میں یہ خبر آئی تھی کہ پاکستانی آرمی کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی یاتریوں کو پاسپورٹ کی ضرورت ہوگی اور سیکورٹی یا خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کرتار پور صاحب گردوارہ آنے والے یاتریوں کو پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان اس معاملے پر کنفیوز نظر آتا ہے کہ یاترا کرنے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت پڑے گی۔ کیو ں کہ پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے ایک بیان آیا ہے جب کہ آئی ایس پی آر کے ڈی جی نے کچھ دوسرا ٹوئٹ کیا ہے۔

بھارت نے کرتارپور گردوارہ کے افتتاح کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے تیار کردہ ویڈیو پر بھی سخت اعتراض کیا ہے۔ بھارت نے الزام لگایا کہ پاکستان کرتارپور کوریڈور کو کھولنے کے پس پشت اصل مقصد کی نظر اندا ز کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، ''پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو میں خالصتان کے باغی رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کو دکھایا گیا ہے۔ ہم پاکستان کی اس کارروائی کی مزمت کرتے ہیں۔ ہم نے پاکستان کے ساتھ بات چیت میں اس بات کو واضح کردیا ہے کہ ہم بھارت مخالف چیزوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قابل اعتراض ویڈیو اور پرنٹ میٹریل کو فوراً ہٹایا جائے۔‘‘




کرتارپور گردوارہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے کل نو نومبر کو بھارت سے پہلاجتھا پاکستان روانہ ہوگا۔ اس جھتے میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ، وفاقی وزیر ہرسمرت کور بادل اور ہردیپ پوری، فلم اداکار اور گرداس پور پارلیمانی حلقہ سے ممبر پارلیمان سنی دیول سمیت متعدد ممبران پارلیمان اور اراکینِ اسمبلی شامل ہوں گے۔



مودی حکومت نے کانگریسی رہنما سابق کرکٹر اور پنجاب کے سابق وزیر نوجوت سنگھ سدھو کو افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے مودی حکومت نے اجازت دے دی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے اجازت کے لیے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو دو خط لکھے تھے۔ لیکن انہیں جواب نہیں ملا تھا، جس کے بعد انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت انہیں اجازت نہیں دے گی تب بھی وہ افتتاحی تقریب میں شرکت کریں۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت نے افتتاحی پروگرام میں شرکت کے لیے کرتار پور جانے والے افراد کی فہرست پاکستان کو 30اکتوبرکو سونپی تھی۔ جس پر پانچ نومبر تک پاکستان کی منظوری آجانی تھی۔ لیکن ابھی تک رسمی منظوری نہیں آئی ہے تاہم ہم یہ مان کرچل رہے ہیں کہ منظوری مل جائے گی اور اسی لحاظ سے ہم نے ان تمام لوگوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ چلنے کو تیار رہیں۔
وزیر اعظم مودی کل نو نومبر کو کرتار پور کوریڈور کے بھارتی حصے کا افتتاح کریں گے اور 550یاتریوں پر مشتمل پہلے جھتے کو گردوارہ دربار صاحب روانہ کریں گے۔
کرتار پور کوریڈور کے کھلنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پربھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ اس کوریڈور کے کھلنے سے امن مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔ بھارت کا موقف بالکل واضح ہے کہ پاکستان اپنے کنٹرول والے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف معتبر کارروائی کرے اور دہشت گردی کے ڈھانچے کو تباہ کرے تبھی دہشت گردی سے پاک ماحول میں باہمی با ت چیت شروع ہوسکتی ہے۔
 





 

DW.COM