کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح ہوگیا | حالات حاضرہ | DW | 09.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح ہوگیا

سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن پر سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پورراہداری کو کھول دیا گیا ہے۔ دنیا بھر سے بےشمار سکھ کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شریک تھے۔

 ہفتہ نو نرمبر کو وزیرِ اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا باقاعدہ افتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب میں امید ظاہر کی کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہو جانے کےبعد بارڈر کھلیں گے، پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئے گی اور دونوں ملک باہمی تجارت کو فروغ دے کر اپنے عوام کو خوشحالی سے ہمکنار کر سکیں گے۔

کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے بھارت سمیت دنیا کے مختلف ملکوں سے سکھوں کی بڑی تعداد ضلح نارووال میں واقع گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور پہنچ۔ بھارت سے آنے والے یاتریوں میں بھارت کے سابق وزیرِ اعظم من موہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ امریندر سنگھ، بھارتی سیاستداں اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو اور اداکار و سیاستداں سنی دیول بھی شامل تھے۔

پاکستان کی طرف سے اس تقریب میں شرکت کرنے والی اہم شخصیات میں وزیر اعظم عمران خان، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ ، اور پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری، سینٹر فیصل جاوید اور فردوس عاشق اعوان بھی شامل تھیں۔

اس موقعے پر اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کہ مئسلہ کشمیر کے حل سے برصغیر میں خوشحالی آئے گی اور برصغیر سے غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ ان کے بقول مسئلہ کشمیر محض ایک جغرافیائی مئسلہ ہی نہیں بلکہ یہ انسانیت کا مسئلہ اورانسانی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے اسی لاکھ لوگوں کو نو لاکھ بھارتی فوج نے بند کیا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔

عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معاشروں میں امن انصاف کرنے سے آتا ہے جبکہ نا انصافی سے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ'' کشمیریوں کو انصاف ملنا چاہیئے۔ مئسلہ کشمیر کے حل سے بر صغیر میں بارڈر کھلیں گے، خوشحالی آئے گی اور لوگ غربت سے نجات پائیں گے۔‘‘

عمران خان نے کہا کہ کرتارپور راہداری تو شروعات ہیں، انشااللہ ایک دن پاکستان کے ہندوستان سے تعلقات ایسے ہوں گے جیسے ہونے چاہیئے تھے۔ان کے بقول فرانس اور جرمنی نے جنگوں کے بعد بھی تعلقات کو بہتر بنا کر بارڈر کھولے، باہمی تجارت کو فروغ دیا اور خوشحالی کی منزل کو پا لیا، اسی طرح پاکستان اور بھارت بھی اچھے ہمسائیوں کی طرح باہمی اختلافات کو بات چیت سے حل کر کے اپنے عوام کو خوشحال بنا سکتے ہیں ۔ ان کے بقول برصغیر میں خوشحالی لانے کے لئے مئسلہ کشمیر کا حل کیا جانا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے دعائیہ انداز میں امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ایسا ہو کر رہے گا۔

عمران خان نے سامنے بیٹھے سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ہونے والی اپنی ایک ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ منموہن سنگھ نے ایک مرتبہ بھارت میں ایک کانفرنس کے موقعے پر ان سے کہا تھا کہ اگر کشمیر کا مئسلہ حل ہو جائے تو سارا برصغیر اٹھ ترقی پا سکتا ہے۔

Pakistan und Indien Eröffnung Sikh Pilgerweg in Kartarpur (Getty Images/AFP/A. Qureshi)

دربار صاحب کے اندر پہنچنے کے لیے سکھ یاتری منظم انداز میں جانے میں سارا دن مصروف رہے

انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کا نام لئے بغیر کہا کہ لیڈر وہ نہیں ہوتا جو انسانوں کو تقسیم کرتا ہے اور ووٹوں کے حصول کے لئے نفرت پھیلاتا ہے بلکہ لیڈر تو وہ ہوتا ہے جو انسانوں کو جوڑتا ہے۔

سابق بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے اس تقریب میں ایک عام یاتری کی طرح شرکت کی ، پاکستان پہنچنے پر ان کا کہنا تھا کہ آج سکھ برادری کے لیے بہت بڑا دن ہے، راہداری کھولنے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔

بھارتی سیاستداں و سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کا کرتارپور راہدری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ عمران خان وہ سکندر ہیں جنہوں نے لوگوں کے دل محبت سے جیت لیے۔'' عمران خان آپ کو احساس نہیں کہ سکھ قوم آپ کو کہاں لے جائے گی، آپ نے سکھ قوم کے دلوں کو فتح کیا ہے۔‘‘

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کرتارپورکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہےجنہوں نے انسانیت کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔

Pakistan und Indien Eröffnung Sikh Pilgerweg in Kartarpur (Getty Images/AFP/A. Qureshi)

دنیا بھر سے بے شمار سکھ یاتری دربار صاحب پہنچنے پر انتہائی مسرت کا اظہار کر رہے تھے

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت دو راہداریوں پر کام کر رہی تھی ایک معاشی راہداری جس پر سی پیک کی شکل میں کام ہو رہا ہے دوسری محبت اور خیر سگالی کی راہداری ہے جسے کرتار پور راہداری کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے مزبد کہم کہ '' آج کے دن ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ وہ کون لوگ ہیں جو محبتوں کی بجائے نفرتوں کے بیج بو رہے ہیں۔ اگر پاکستان اور بھارت کے حکمران اپنے سیاسی عزم سے باہمی تنازعات کو حل کر لیتے تو کرتارپور راہداری کا سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں بہتر سال نہ لگتے۔ عمران خان نے اپنا محبت کا وعدہ پورا کر دیا۔ اب بھارت کشمیر پر اپنا وعدہ پورا کرے۔ اگر برلن کی دیوار گر سکتی ہے، یورپ کا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے، تو پھرکشمیریوں کو حق خود ارادیت دے کر لائن آف کنٹرول کوبھی ختم کیا جا سکتا ہے۔‘‘

وزیر اعظم عمران خان کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز ماہر سیاسیات ڈاکٹڑ حسن عسکری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کرتارپور راہداری کے افتتاح سے بھارت کے غیر سرکاری حلقوں میں پاکستان کے حوالے سے ایک خیر سگالی کی فضا تو پیدا ہوئی ہے اور اس موقعے پر عمران خان کشمیر کی بات کرکے سکھوں کے ذریعے بہت نرم سفارتی انداز میں اپنا یہ پیغام بھارتی عوام تک پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں کہ اگر کشمیر کے مئسلے کو حل کر لیا جائے تو اس سے دونوں ملکوں کے عوام کا بھلا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عسکری کا کہنا تھا کہ اس سب کے باوجود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کئے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بلکہ وہ اپنے ووٹروں کو خوش کرنے کے لیئے بابری مسجد کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔

DW.COM