کراچی: پولیو مہم میں شریک سات پولیس اہلکار ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 20.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی: پولیو مہم میں شریک سات پولیس اہلکار ہلاک

کراچی میں ایک بار پھر نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے پولیس کو نشانہ بنایا ہے۔ انسداد پولیو کی مہم میں سکیورٹی کی خدمات سرانجام دینے والے سات پولیس اہلکاروں کو دن دھاڑے فائرنگ کرتے ہوئے قتل کردیا گیا ہے۔

دہشت گردی کی یہ تازہ ترین واردات کراچی کے مغربی حصے میں متوسط طبقے کے گنجان آباد علاقے اورنگی ٹاون میں رونما ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے پہلے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی خواتین ہیلتھ ورکرز کی حفاظت پر تعینات تین پولیس اہلکاروں کو اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے ہلاک کیا اور پھر کچھ ہی فاصلے پر کھڑی پاکستان بازار تھانے کی گاڑی پر دائیں اور بائیں جانب سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار پولیس اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

ڈی آئی ویسٹ زون فیروز شاہ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ابتدائی افسران میں تھے۔ انہوں نے ڈوچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق حملہ آورں کی تعداد آٹھ تھی، جو چار موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، ’’انہوں نے پولیس کی دو ٹیموں پر فائرنگ کی۔ دہشت گردوں نے ماضی کی طرح اس حملے میں بھی نائن ایم ایم کے پستول استعمال کیے۔ تمام اہلکاروں پر انتہائی قریب سے سر اور جسم کے بالائی حصوں پر فائرنگ کی گئی، جس کے باعث تمام اہلکار جائے وقوعہ پر ہی جاں بحق ہوگئے۔‘‘

کراچی میں رواں برس کی دوسری چار روزہ انسداد پولیو مہم کا یہ تیسرا دن تھا۔ تاہم اس واقعے کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث علاقے میں انسداد پولیو مہم موخر کردی گئی ہے۔

کراچی میں ڈائریکٹر ہیلتھ شکور عباسی نے حملے میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ تمام پولیو ورکرز خیریت سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں تو اب انہیں سیکورٹی کے لیے رینجرز اور فوج کی طرف دیکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو مہم پورے شہر میں جاری ہے تاہم اورنگی ٹاؤن میں مہم کی بحالی کا فیصلہ آئندہ اجلاس کے بعد ہی کیا جائے گا۔‘‘

ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر اور نئے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور واقعے سے متعلق بریفگ کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اس طرح کے حملوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ آئی جی سندھ نے حملہ آوروں کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے پچاس لاکھ روپے انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے یونٹ سے وابستہ پولیس افسر راجہ عمر خطاب نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا اسپیشل ٹاسک فورس یونٹ ملوث ہوسکتا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں بلدیہ ٹاؤن میں رینجرز کے چار اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ نومبر میں ایم اے جناح روڈ پر ملٹری پولیس کے دو جوان ہدف بنے اور رواں برس گزشتہ تین ماہ میں چھ پولیس اہلکاروں کو بھی اسی گروپ نے نشانہ بنایا تھا۔