’کراچی ایک دن بھارت کا حصہ ہوگا‘، بی جے پی رہنما | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’کراچی ایک دن بھارت کا حصہ ہوگا‘، بی جے پی رہنما

بھارت میں کراچی بیکری اور کراچی سويٹس پر سیاست اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکمران پارٹی بی جے پی سے وابستہ ايک رہنما نے پاکستانی شہر کراچی کو ايک نہ ايک دن بھارت کا حصہ بنانے کی بات کہہ ڈالی۔

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتی جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما دیوندر فڈنویس نے یہ کہہ کر ایک اور تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ایک دن کراچی بھارت کا حصہ ہوگا۔ چند روز قبل ہی دائیں بازو کے ایک سخت گیر رہنما نے ممبئی میں تاریخی اہمیت کی حامل دکان 'کراچی سوئٹس‘ اور 'کراچی بیکری‘ کا نام بدلنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد دکان دار نے سائن بورڈ سے لفظ کراچی کو ڈھک دیا تھا۔

اس حوالے سے بعض صحافیوں نے سابق وزیر اعلیٰ دیونڈر فڈنویس سے سوال پوچھا کہ یہ دکانیں تو ساٹھ برس سے ہیں، پھر اب ان کے نام بدلنے کا جواز کیا ہے؟ اس پر سابق وزیر اعلیٰ نے کہا، ''ہم وہ لوگ ہیں جو 'اکھنڈ بھارت‘ (غیر منقسم ہندوستان) میں یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ایک دن کراچی بھی بھارت کا حصہ ہوگا۔‘‘

واضح رہے کہ سخت گیر ہندو نظريات کی حامل بھارتی تنظیم آر ایس ایس 'اکھنڈ بھارت‘ میں یقین رکھتی ہے اور اس کا کہنا ہےکہ ایک دن وہ بھارت کو متحدہ کر کے رہے گی۔ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نظرياتی طور پر آر ایس ایس سے متاثرہ ہے اور وزير اعظم نریندر مودی سمیت پارٹی کے بیشتر رہنما اسی کے زیر تربیت پراوان چڑھے ہیں۔   

بی جے پی کے رہنما کے اس بیان پر جب ایک ریاستی وزیر نواب ملک سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ جو فڈنویس نے کہا ہے اس کی وہ بہت پہلے سے حمایت کرتے رہے ہیں۔ ''ہم بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے انضمام کی بات کرتے رہے ہیں۔ اگر دیوار برلن گرائی جا سکتی ہے تو پھر بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ساتھ کیوں نہیں آ سکتے۔ اگر بی جے پی ان ممالک کو ملا کر ایک کرنا چاہتی ہے تو بلا شبہ ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔‘‘

ممبئی میں مقامی صحافی شاہد انصاری کہتے ہیں کہ یہ تمام بیان بازی سیاست کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ڈی ڈبلیو اردو سے بات چيت میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلی فڈنویس ابھی تک اپنی شکست ہضم نہیں کر پائے ہیں اور وہ ہر روز ایسا کچھ کہتے يا کرتے ہیں تاکہ وہ سرخیوں میں رہیں۔ ان کا کہنا تھا، ''ان کے پاس اب کوئی موضوع نہیں ہے۔ اس لیے میڈیا کی سرخیوں میں رہنے کے لیے وہ کوئی نہ کوئی متنازعہ بیان دیتے رہتے ہیں۔ کراچی سے متعلق ان کا یہ بیان بھی سیاست کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘

تنازعہ شروع کيسے ہوا؟

اس تنازعے کی ابتداء چند روز قبل اس وقت شروع ہوئی جب ممبئی میں سخت گیر دائیں بازوں کی علاقائی جماعت شیو سینا کے ایک رکن نے ممبئی میں 'کراچی سوئٹس‘ اور 'کراچی بیکری‘ نامی قدیم دکانوں کے نام بدلنے کی بات کہی تھی۔ شیو سینا کے رہنما نتن نندگاؤکر اور دکان کے مالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کا ایک ویڈیو وائرل ہوا، جس میں انہیں دکان دار سے 'کراچی‘ کا نام ہٹا کر کچھ مراٹھی زبان میں رکھنے کو کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

شیو سینا کے رہنما کہتے ہیں، ''ہم تمہیں کچھ وقت دے رہے ہیں، کراچی کو بدل کر کچھ مراٹھی میں رکھ لو۔ کراچی نام سے مطلب آپ پاکستان کے ہو۔ اس سے ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ہمیں اس نام سے نفرت ہے، ممبئی میں ایسے ناموں کو نہیں رہنے دیا جائےگا، اسے آپ کو بدلنا ہوگا۔‘‘

اس بات چیت کے دوران دکان دار نے انہیں یہ سمجھانے کی بھی کوشش کی کہ اس کا پاکستان سے کچھ بھی لینا دینا نہیں اور دراصل ان کے باپ دادا کراچی سے بھارت ہجرت کر کے آئے تھے اور اسی مناسبت سے اس کا نام کراچی سوئیٹس رکھا تھا۔ لیکن نندگاؤکر نے ایک نہیں سنی  اور 'کراچی سویٹس‘ کے مالک کو اپنی دکان کے سائن بورڈ کو اخباری کاغذ سے ڈھکنے پر مجور کر دیا۔

شیوسینا کی وضاحت

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر کئی حلقوں کی جانب سے اس واقعے پر سخت نکتہ چینی کی گئی، جس کے بعد شیو سینا نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ یہ پارٹی کا موقف نہیں۔ پارٹی  کے ترجمان سنجے راؤت نے کہا، ''کراچی بیکری اور کراچی سویٹس ممبئی میں گزشتہ ساٹھ برسوں سے ہیں۔ ان کا پاکستان سے کچھ بھی لینا دینا نہیں۔ ان کے نام تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی کوئی سمجھ داری کی بات نہیں ہے۔ نام بدلنے کا مطالبہ شیو سینا کا سرکاری مطالبہ نہیں ہے۔‘‘

بھارت ميں 'کراچی بیکری‘ اور 'کراچی سویٹس‘ کی تاريخ

جنوبی اور مغربی بھارت میں 'کراچی بیکری‘ اور 'کراچی سویٹس‘ ایک معروف برانڈ ہے، جس کی مختلف بڑے شہروں میں دکانیں ہیں۔ دائیں بازو کی ہندو قوم پرست جماعت بی جی پی اور اس کی حامی تنظیمیں اکثر مسلم ناموں کے مقامات یا پھر شہروں کے نام تبدیل کرنے کی بات کرتے ہيں۔

ایسی تنظیمیں کراچی بیکری کے خلاف بھی وقتاً فوقتاً آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ گزشتہ برس کشمیر ميں پلوامہ حملے کے بعد بھی جنوبی شہر بنگلور میں کراچی بیکری کے خلاف زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گيا تھا اور لوگوں نے اس کا نام تبدیل کرانے کے لیے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔

بھارت میں کراچی بیکری کی بنیاد سن 1953 میں رکھی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ تقسیم ہند کے بعد کراچی کے ایک سندھی ہندو خاندان کے چند ارکان بھارت ہجرت کر گئے تھے اور انہوں نے ہی بھارت کے جنوبی شہر حیدر آباد میں اس نام کی دکان پہلی بار سن 1953 میں کھولی تھی۔ حیدر آباد میں کراچی بیکری کی دکانیں آج بھی انتہائی مقبول ہیں۔ بہت سی دکانوں کے مالک ہندو ہیں اور ممبئی میں جس دکان کو نشانہ بنایا گيا، اس کے مالک بھی ہندو ہی ہیں۔

بھارت میں ایک طبقہ سخت گیر ہندو تنظیموں کے اس مطالبے سے متفق نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جس طرح بھارت میں کراچی بیکری، پنڈی دربار یا پھر لاہوری پکوان معروف ہیں تو پاکستان کے شہر حیدرآباد میں بھی 'بمبئی بیکری‘ ہے۔ سوشل میڈیا پر بحث کے دوران اکثر لوگوں نے شیو سینا کے اس موقف کی مخالفت کی ہے۔

DW.COM