کراچی افیئر کے حوالے سے سارکوزی پر دباؤ | حالات حاضرہ | DW | 25.09.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کراچی افیئر کے حوالے سے سارکوزی پر دباؤ

فرانس کے صدر نکولا سارکوزی پر ’کراچی افیئر‘ کے حوالے سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اب کے ان کے تیسرے قریبی ساتھی پر بھی اس حوالے سے الزامات کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی

سارکوزی کے اس قریبی ساتھی پر الزام ہے کہ انہوں نے پولیس حراست میں موجود اپنے ایک دوست کو خفیہ گواہی سے متعلق خبردار کر دیا تھا۔

اس سے گواہی کے منظر عام پر آنے سے متعلق ابتدائی عدالتی تحقیقات جمعے کو شروع ہوئیں۔ یہ کارروائی فرانسیسی ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان رپورٹوں کے بعد عمل میں آئی، جن میں کہا گیا تھا کہ صدارتی مشیر Brice Hortefeux نے سارکوزی کے ایک اور معاون Thierry Gaubert کو ان کے خلاف دی گئی ایک خفیہ گواہی سے متعلق آگاہ کر دیا تھا۔ یہ گواہی دراصل ان کی اہلیہ نے ہی دی تھی۔

دوسری جانب ہفتے کو ان کی اہلیہ، یوگوسلاویہ کی شہزادی ہیلین نے ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویوز میں ان دعووں کو دہرایا کہ ان کے شوہر غیرملکی دوروں سے واپسی کے بعد نوٹوں کے بیگ لائے تھے۔ خیال رہے کہ ہیلین اور گاؤبیرٹ کے درمیان اب علیحدگی ہو چکی ہے۔

Brice Hortefeux Innenminister Frankreich

ہورٹیفیوکس پر خفیہ گواہی کو ’لیک‘ کرنے کا الزام ہے

ہورٹیفیوکس سارکوزی کے دورِ حکومت میں وزیر داخلہ رہ چکے ہیں۔ ان کا نام اس مقدمے میں آنے سے کراچی افیئر مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔

سارکوزی کے دفتر سے رواں ہفتے ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ اس کیس کے کسی پہلو سے صدر کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سارکوزی کو اس مقدمے سے کوئی براہ راست قانونی خطرہ تو نہیں ہے، تاہم ان کے قریبی ساتھیوں کے اس کیس میں ملوث ہونے سے آئندہ صدارتی انتخابات میں سارکوزی کی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔

کراچی افیئر پاکستان کو آبدوزوں کی فروخت اور دوہزار دومیں کراچی میں ہونے والے دھماکے سے متعلق ہے، جس میں گیارہ فرانسیسی شہریوں سمیت پندرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ یہ دھماکے سابق فرانسیسی صدر ژاک شیراک کے اس فیصلے کا جواب تھے، جس کے تحت انہوں نے آبدوزوں کی فروخت کے لیے پاکستان کو کمیشن کی ادائیگی رکوا دی تھی۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM