کتے کینسر کا پتا بھی لگا سکتے ہیں | معاشرہ | DW | 11.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

کتے کینسر کا پتا بھی لگا سکتے ہیں

کتے کی سونگنے کی حس صرف منشیات اور دھماکہ خیز مواد تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ کینسر کو بھی سونگھ سکتے ہیں۔

کُتوں کی حس شامہ مشہور ہے۔ یہ طویل فاصلے پر، گہرائی میں موجود یا پھر کئی تہوں میں ملفوف شے کی بُو بھی محسوس کر لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تربیت یافتہ بیلگین میلینوائس نسل کے کتے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بہت معاون ثابت ہوتے ہیں۔

 تاہم امریکا میں ایسے کتے بھی موجود ہیں جو بارودی سرنگوں یا منشیات کا نہیں بلکہ انسانوں میں سرطان کے مرض کی نشان دہی کرتا ہے۔کتے کی سونگنے کی حس انسانوں  سے دس ہزار سے ایک لاکھ گنا زیادہ بہتر ہے۔

ایک نئے امریکی مطالعے کے مطابق،’’شکاری کتوں نے بہترین نتائج اخذ کیے ہیں۔ ان کتوں خون کے کئی نمونے سنگھائے گئے۔ ان کتون نے تو کمال ہی کر دیا۔96.7 فیصد خون کے نمونوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کا پتا لگا لیا۔ ہاں البتہ اس گروپ میں ایک کتا ایسا بھی تھا جو اس مشق میں حصہ نہیں لینا چاہتا تھا اسی لیے اس نے عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔

ہیتھر جونکیرا اس مطالعے کی نمایاں ریسرچر ہیں۔ ان کے مطابق،’’ہمارے اس کام نے کافی حد تک کینسر کی تشخیص کی راہ ہموار کی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس سے کینسر کی تشخیص کے نئے طریقے بھی روشناس ہوتے ہیں۔ ایک کام یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ کینسر کے مرض میں مبتلا مریض کا معائنہ کتے کریں۔ ‘‘

ہیتھر جونکیرا بائیو’سینٹ ڈی ایکس‘ نامی ایک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کی ایک محققہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے،’’یہ کمپنی اس سال نومبر میں چھاتی کے سرطان پر بھی تحقیق شروع کرے گی۔ اس تحقیق میں کتے مریضوں کے عمل تنفس کے دوراں حاصل شدہ نمونوں سے ان میں کینسر کی موجودگی یا عدم موجودگی کا سراغ لگائیں گے۔

DW.COM