کتا صرف وفادار ہی نہیں بلکہ سزا سے بھی بچا سکتا ہے | معاشرہ | DW | 12.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کتا صرف وفادار ہی نہیں بلکہ سزا سے بھی بچا سکتا ہے

گمشدہ لبراڈر کتے نے امریکا میں جنسی استحصال کے ایک مقدمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کتے کی وجہ سے ملزم کی پچاس سال کی سزا ختم ہو گئی۔

امریکی ریاست اوریگن میں ایک لڑکی نے اپنے والد پر جنسی استحصال کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اپنے بیان میں مدعی نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس کے والد نے یہ حرکت کرنے کے بعد اُسے ڈرانے اور خاموش کرانے کے لیے اس کے کتے کو گولی مار دی تھی تاکہ وہ پولیس کو اس بارے میں نہ بتائے۔

 عدالت نے اس کے بعد اپریل 2017ء میں یوشا ہورنر کو اپنی بیٹی کو ساتھ جنسی چیھڑ چھاڑ کرنے پر پچاس سال قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔

اس موقع پر ہارنر نے بار بار عدالت سے استدعا کی کہ اس نے کتے کو گولی نہیں ماری ہے اور اس کی بیٹی حلفیہ بیان کے دوران غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ تاہم بعد ازاں ہارنر نے قانونی معاملات میں تعاون فراہم کرنے والی ایک فلاحی تنظیم سے رابطہ کیا۔

اوریگن انوسنس پروجیکٹ نے اس لاپتہ کتے کی تلاش شروع کی اور وہ اسے زندہ ڈھونڈنے میں کامیاب بھی ہو گئی۔ اس کتے کو اس کے غیر معمولی لمبے کانوں اور سر کے منفرد ہونے کی وجہ سے باآسانی پہچان لیا گیا۔

ڈسٹرک اٹارنی جان ہیمل کے مطابق یہ اہم ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ درخواست گزار نے گواہی دیتے وقت جھوٹ بولا ہے، ’’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جناب ہارنر نے اپنی بیٹی کو جنسی استحصال کا نشانہ نہیں بنایا ہو گا تاہم تمام تر دستیاب شواہد کی بنیاد پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ رونما ہی نہیں ہوا ہو گا۔‘‘

ع ا / ع ب / خبر رساں ادارے

DW.COM

اشتہار