کابل میں گردوارے پر حملہ اور بھارت کی مذمت | حالات حاضرہ | DW | 25.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کابل میں گردوارے پر حملہ اور بھارت کی مذمت

 بھارت نے کابل میں ایک گردوارہ پر ہوئے حملےکو 'بزدلانہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ بھارت نے افغان حکومت سے اقلیتی سکھ فرقے کے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل بھی کی۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شوربازار علاقے میں سکھوں کی عبادت گاہ پر بدھ 25 مارچ کو ہوئے حملے میں کم از کم پچیس افراد ہلاک اور گیارہ دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جب کہ ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔

بھارت نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ”اقلیتی فرقے کے مذہبی مقامات پر اس طرح کا بزدلانہ حملہ، وہ بھی کووڈ انیس کی وبا کے وقت میں، حملہ آوروں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کی شیطانی ذہنیت کا مظہر ہے۔"

بھارت نے حملہ آوروں کا جرأت کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کی تعریف کی اور کہا کہ بھارت افغانستان میں امن و سلامتی کے قیام کی کوششوں میں افغان عوام، حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں حملے میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں کے ساتھ تعزیت کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت افغانستان میں ہندو او رسکھ فرقہ کے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

بھارت کے وفاقی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹ کی،”کابل میں گردوارہ صاحب پر ہوئے خودکش حملے کی سخت ترین مذمت کی جانی چاہیے۔ یہ ہلاکتیں ہمیں اس افسوس ناک صورت حال کی یاددہانی کراتی ہیں کہ بعض ملکوں میں مذہبی اقلیتوں پر مظالم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ان مذہبی اقلیتوں کی زندگیوں اور مذہبی آزادی کی حفاظت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔"

حکمراں این ڈی اے اتحاد کی حلیف اکالی دل بادل کے رہنما سکھ بیر سنگھ بادل نے حملے میں سکھوں کی ہلاکت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا،”میری دعائیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو کابل میں گردوارہ صاحب میں عبادت کے دوران بربریت کا شکار ہوئے۔ میں وزیر اعظم نریندر مودی جی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سکھوں کی حفاظت کے سلسلے میں افغانستان کے صدر اشرف غنی سے فوراً بات کریں۔" کانگریس کے سینیئر رہنما اور رکن پارلیمان منیش تیواری نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس بھی ان دہشت گردوں کو روک نہیں پایا۔

اطلاعات کے مطابق کابل کے پرانے شہر کے قلب میں واقع اس گردوارہ پر آج صبح اس وقت دہشت گردوں نے حملہ کردیا جب وہاں سکھ عبادت کر رہے تھے۔ حملے کے وقت گردوارہ میں تقریباً ڈیڑھ سو افراد موجود تھے۔ افغانستان میں سکھ فرقے کے ایک رکن پارلیمان نریندر سنگھ خالصہ کا کہنا تھا کہ جس وقت حملہ ہوا وہ گردوارہ کے قریب ہی تھے اور یہ دیکھنے کے لیے اندر دوڑ پڑے کہ وہاں کیا ہوا ہے۔ بندوق بردار وہاں فائرنگ کررہے تھے۔

'سائٹ‘ انٹلیجنس گروپ کے مطابق اسلامک اسٹیٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس سے قبل طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ طالبان اس حملے میں شامل نہیں ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں ان دنوں سیاسی عمل تعطل کا شکار ہے۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے صدارتی انتخابات میں اپنی اپنی کامیابی کا دعوی کرتے ہوئے پچھلے دنوں عہدہ صدارت کا الگ الگ حلف لیا تھا۔ امریکا اس تعطل کو ختم کرانے کی کوشش کررہا ہے ۔تاکہ طالبان کے ساتھ حال ہی میں ہوئے امن معاہدے کو نافذ کیا جاسکے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز کابل کا دورہ کیا تھا۔

Flash-Galerie Hindus in Afghanistan (AP)

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ماضی میں بھی افغانستان میں سکھوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ جولائی سن 2018 میں جلا ل آباد میں سکھوں اور ہندوؤں کو نشانہ بنا کر اس وقت ایک خودکش حملہ کیا گیا جب وہ افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جارہے تھے۔ اس حملے میں انیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسلامک اسٹیٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ سن 1990 کی دہائی میں طالبان کے دور حکومت میں بھی سکھوں کو مذہبی تعصب کا شکار ہونا پڑا تھا۔ ان سے شناخت کے لیے اپنے بازوں پر پیلی پٹیاں باندھنے کے لیے کہا گیا تھا گوکہ یہ حکم سختی سے کبھی نافذ نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ بھارت میں مودی حکومت نے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کو منظور کراتے وقت ایک دلیل یہ بھی دی تھی کہ افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں کو تعصب کا شکار ہونا پڑ رہا ہے اس لیے بھارت مذکورہ ملکوں کے ہندو، سکھ، جین، بودھ اورپارسی فرقہ کے لوگوں کو بھارتی شہریت دے گا۔ اس قانون میں تاہم مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

جاوید اختر، نئی دہلی

 

DW.COM