کابل میں ٹی وی اسٹیشن پر حملہ، متعدد افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 07.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل میں ٹی وی اسٹیشن پر حملہ، متعدد افراد ہلاک

افغان دارالحکومت میں ایک نجی ٹیلی وژن اسٹیشن پر حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ ایک زور دار دھماکا کرنے کے بعد متعدد مسلح حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔

افغان دارالحکومت کابل میں واقع پشتو زبان کے نجی شمشاد ٹیلی وژن پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس ٹیلی وژن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ٹیلی وژن کی عمارت کے اندر موجود متعدد افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ اس ادارے میں کام کرنے والے ملازمین نے ٹیلی فون کال کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عمارت میں موجود مسلح حملہ آوروں کی تعداد دو سے پانچ تک ہو سکتی ہے۔

کابل میں پولیس کے ترجمان بشیر مجاہد نے بھی متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق فی الحال ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پولیس کے مطابق پہلے ٹی وی اسٹیشن کے گیٹ پر ایک خودکش دھماکا کیا گیا اور اس کے بعد حملہ آور عمارت میں داخل ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ دیگر ہینڈ گرنیڈ پھینکتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہوئے۔

اس حملے کے بعد شمشاد ٹیلی وژن کی نشریات بند کر دی گئی ہیں۔ ابھی تک حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے لیکن طالبان نے فوری طور پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ان کی طرف سے نہیں کیا گیا۔ افغان صحافیوں اور میڈیا کے خلاف ہونے والا یہ تازہ ترین حملہ ہے۔ گزشتہ برس ایک خودکش حملے میں طلوع ٹیلی وژن کے سات ملازمین ہلاک ہو گئے تھے۔

اس ٹیلی وژن کے ایک کیمرہ مین نے بتایا ہے کہ انہیں ابھی تک فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

DW.COM

اشتہار