کابل میں دو پروفیسر اغوا، ایک آسٹریلوی اور ایک امریکی شہری | حالات حاضرہ | DW | 08.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل میں دو پروفیسر اغوا، ایک آسٹریلوی اور ایک امریکی شہری

افغانستان میں مزید دو غیر ملکیوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ افغان حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کے روز دارالحکومت کابل میں اغوا کیے جانے والے ان دو پروفیسروں کا تعلق آسٹریلیا اور امریکا سے ہے۔

Afghanistan Taliban Polizei Checkpoint

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پولیس کی جانب سے مشتبہ افراد کی چیکنگ کا ایک منظر

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اغوا کنندگان نے افغان سکیورٹی فورسز کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور اُنہوں نے ان پروفیسروں کو دارالحکومت کابل کے عین وسط میں واقع ایک علاقے سے اغوا کیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پروفیسر ’امیریکن یونیورسٹی آف افغانستان‘ سے وابستہ تھے اور اتوار کی شام اپنی گاڑی میں کابل کی دارلامان روڈ پر سفر کر رہے تھے، جب مسلح افراد نے اُنہیں گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا۔ تاحال کسی بھی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس واقعے کے دوران ڈرائیور کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اب اُس سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق اس واقعے میں چار مسلح افراد ملوث تھے۔

اے ایف پی کے مطابق افغان دارالحکومت آج کل جرائم پیشہ گروہوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، جن کا یہ معمول ہے کہ وہ غیر ملکیوں اور دولت مند افغانوں کو اغوا کرتے ہیں اور اُنہیں محض تاوان کی ادائیگی کے بدلے رہا کرتے ہیں یا کئی بار آگے باغی گروپوں کے بھی حوالے کر دیتے ہیں۔

اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر امریکی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اُسے ایک امریکی شہری کے کابل میں اغوا کر لیے جانے کی خبروں کا علم ہے لیکن یہ کہ وہ ابھی اس سلسلے میں کوئی بھی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ آسٹریلوی حکومت نے بھی مزید کوئی تبصرہ کیے یا تفصیلات بتائے بغیر فقط کابل میں اپنے سفارت خانے کے حوالے سے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اُس کے ایک شہری کو ’ممکنہ طور پر اغوا‘ کر لیا گیا ہے۔

کینبرا حکومت نے اپنے ایک بیان میں آسٹریلوی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ افغانستان کا سفر نہ کریں کیونکہ وہاں اغوا کر لیے جانے کا سنگین خطرہ موجود ہے۔

Afghanistan Kabul Stadtansicht

افغان دارالحکومت آج کل جرائم پیشہ گروہوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، جن کا یہ معمول ہے کہ وہ غیر ملکیوں اور دولت مند افغانوں کو تاوان لینے کے لیے اغوا کرتے ہیں

’امیریکن یونیورسٹی آف افغانستان‘ کا افتتاح 2006ء میں عمل میں آیا تھا، اس میں مغربی دنیا کے بہت سے اساتذہ پڑھا رہے ہیں اور اس میں آج کل ایک ہزار سات سو سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ تاحال اس یونیورسٹی کی جانب سے بھی اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

اغوا کا یہ تازہ واقعہ ایک بار پھر افغانستان میں غیر ملکی شہریوں کو لاحق سنگین خطرات کو واضح کرتا ہے۔ اس واقعے سے تین ہی روز قبل مغربی افغانستان کے شہر ہرات میں طالبان نے برطانیہ، امریکا اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے چار سیاحوں کی گاڑی پر فائرنگ کرتے ہوئے اُن میں سے چند ایک کو زخمی کر دیا تھا۔ ان زخمیوں کو بعد ازاں علاج کے لیے کابل پہنچا دیا گیا۔