کابل، شیعہ مسجد پر خودکش حملہ، ایک درجن سے زائد ہلاکتیں | حالات حاضرہ | DW | 25.08.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل، شیعہ مسجد پر خودکش حملہ، ایک درجن سے زائد ہلاکتیں

افغان حکام کے مطابق دارالحکومت کابل میں واقع ایک شیعہ مسجد پر کیے گئے خود کش حملے میں کم از کم چودہ  عام شہری مارے گئے ہیں۔ افغان وزارت داخلہ کے مطابق چودہ شہریوں کے علاوہ دو پولیس اہلکاروں کی بھی موت واقع ہوئی ہے۔

 نیوز ایجنسیوں سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق خود کش حملہ آور نے مسجد کے دروازے پر بارودی جیکٹ اڑا دی جبکہ بقیہ حملہ آوروں نے مسلح افراد نے مسجد کے اندر داخل ہو کر فائرنگ کی۔ کابل پولیس کے ترجمان بشیر مجاہد نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ حملہ امام زمان مسجد میں ہوا۔

مسلمانوں کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی اس مسجد پر حملے میں  سیکیورٹی گارڈ اور مسجد کے امام کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ پبلک ہیلتھ کے محکمے کے مطابق دو نعشیں اور پندرہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچ دیا گیا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے اے پی نے افغان پولیس اہلکار محمد جمیل کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا  کہ  حملے کے فوری بعد پولیس کو کابل کے شمالی حصے میں واقع  اس مسجد کے باہر تعینات کر دیا گیا تھا۔ جمیل کا کہنا تھا کہ جمعے کی نماز کے باعث مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی اور یہ کہ  مسجد کے اندر سے  فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں دیر تک سنائی دیتی رہیں۔

افغانستان میں شیعہ مذہبی رہنماؤں کی کونسل کے ایک رکن میر حسین ناصری نے اے پی کو بتایا کہ جمعے کی نماز کی امامت کرانے والے عالم دین موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے تاہم انہوں نے اُن کا نام بتانے سے گریز کیا۔ نصیری نے یہ بھی بتایا کہ مسلح افراد نے خواتین اور مردوں کے لیے مختص نماز کی جگہوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

مسجد پر حملے کی ذمہ داری جہادی گروپ داعش یا ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کر لی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں شیعہ مسلمانوں کی مسجدوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ افغانستان کے شہر ہرات میں واقع شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد پر ہونے والے خودکش حملے میں بتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کی تھی۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران داعش افغانستان میں شیعوں کے خلاف متعدد حملے کر چکی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں کہ افغانستان کے صوبہ خراسان میں موجود داعش کے شام اور عراق میں موجود داعش کی اعلیٰ قیادت سے براہ راست رابطے موجود ہیں۔

DW.COM