ڈی ڈبلیو کی 65 ویں سالگرہ، جرمن چانسلر کا میڈیا کی آزادی پر زور | معاشرہ | DW | 05.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ڈی ڈبلیو کی 65 ویں سالگرہ، جرمن چانسلر کا میڈیا کی آزادی پر زور

ڈی ڈبلیو کی 65 ویں سالگرہ کے موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے میڈیا کی مکمل آزادی پر زور دیا ہے۔ ان کے بقول یورپی یونین کے عالمی کردار اور جعلی خبروں کے اس دور میں ڈی ڈبلیو کی طرح کی کسی آواز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا کہ اس بین الاقوامی نشریاتی ادارے نے ہمیشہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار کی بات کی ہے۔ جرمن چانسلر نے یہ بیان ڈی ڈبلیو کے پینسٹھ سال پورے ہونے پر جرمن پارلیمان میں منعقد ہونے والی خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

ڈی ڈبلیو کی نشریات کا آغاز سن 1953ء میں ہوا تھا۔ اس وقت ڈی ڈبلیو کو آج کی نسبت کم چیلنجز کا سامنا تھا۔ اس وقت کا ریڈیو آج ایک ملٹی میڈیا ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ٹیلی وژن، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے تیس زبانوں میں ایک ہفتے کے دوران اس ادارے کی نشریات کی رسائی 150 ملین سے زائد افراد تک ہوتی ہے۔  ڈی ڈبلیو کو دنیا بھر میں نہ صرف ایک قابل اعتماد بلکہ جعلی خبروں کے خلاف جنگ لڑنے والے ادارے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

جرمن چانسلر نے بھی برلن میں آج منگل پانچ جون کو اسی حوالے سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم جرمنی اور یورپ کے بارے میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی محسوس کر سکتے ہیں۔ جرمنی کو عام طور پر دنیا بھر میں قابل بھروسہ پارٹنر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جرمنی اور یورپ میں ہماری سوچ کیا ہے۔ ہمیں کس طرح کے حالات کا سامنا رہا اور یہاں کے لوگوں کا طرز زندگی کیا ہے۔‘‘

اس موقع پر میرکل کا مزید کہنا تھا، ’’برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے بعد عالمی معاملات میں یورپ کا نقطہ نظر دنیا تک پہنچانا میرے خیال میں ایک اہم ذمہ داری ہو گی۔‘‘

Festakt 65 Jahre DW mit Bundeskanzlerin Angela Merkel (DW/J. Roehl)

اپنے خطاب سے پہلے جرمن چانسلر نے ڈی ڈبلیو کی روسی سروس کے اراکین سے بھی ملاقات کی

اپنے خطاب سے پہلے جرمن چانسلر نے ڈی ڈبلیو کی روسی سروس کے اراکین سے بھی ملاقات کی۔ روسی سروس نے ایسی ویڈیوز کی ایک سیریز شروع کر رکھی ہے، جس میں صارفین، خاص طور پر نوجوانوں کو فیک یا جعلی نیوز کو پہچاننے کے حوالے سے بتایا جاتا ہے۔

دنیا کے لیے ایک یورپی آواز

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لیمبورگ دونوں نے ہی ڈوئچے ویلے کی بطور یورپی براڈکاسٹر بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیا۔ جیسے جیسے برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج قریب آ رہا ہے، برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی برائے نام ہی سہی، اب یورپی براڈ کاسٹر نہیں رہا۔ حالیہ چند برسوں کے دوران ڈی ڈبلیو میں کئی اصلاحات ہوئی ہیں۔ اب انگریزی زبان کے مواد پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور یہ دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لیمبورگ کا اس موقع پر کہنا تھا، ’’ ڈی ڈبلیو کی رسائی ماضی کے مقابلے میں آج بہت زیادہ ہے اور لوگ اس کو سراہتے بھی ہیں۔ سیاسی وابستگی سے مبراء ہو کر اس کا اطلاق یہاں جرمنی میں بھی ہوتا ہے، جس پر ہمیں فخر بھی ہے اور ہم خوش بھی ہیں۔ مگر ہم یہیں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے معلومات کا ذریعہ بننا چاہتے ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں  انہیں پراپیگنڈا اور سینسر شپ کا سامنا ہے۔ ہم جرمنی اور یورپ کو بہتر طریقے سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

DW-Intendant Peter Limbourg beim Festakt 65 Jahre DW mit Bundeskanzlerin Angela Merkel (DW/J. Roehl)

پیٹر لیمبورگ نے خاص طور پر ترک زبان کے ایک ٹیلی وژن کی اہمیت پر زور دیا

پیٹر لیمبورگ نے خاص طور پر ترک زبان کے ایک ٹیلی وژن کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی میں آزادی صحافت ختم ہو چکی ہے اور اس حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے 65 سال، ’بنڈس ٹاگ‘ میں خصوصی نشست

وزیر مملکت برائے ثقافتی امور مونیکا گرُٹرز کا اس موقع پر کہنا تھا، ’’ڈی ڈبلیو آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ جامع تحقیق اور معیاری صحافت کے ساتھ ساتھ ریاستی اثر و رسوخ سے بھی آزاد ہے۔ مجھے اس پر فخر ہے۔‘‘

مقررین کی طرف سے ڈی ڈبلیو کی اکیڈمی اور ان پروگراموں کی بھی تعریف کی گئی، جن کی مدد سے دنیا بھر میں صحافیوں کی تربیت کی جا رہی ہے اور صارفین جرمن زبان سیکھ رہے ہیں۔ ڈی ڈبلیو اکیڈمی بین الاقوامی میڈیا کی ترقی کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ 1965ء سے صحافیوں کو تربیت فراہم کر رہی ہے۔

جرمن دارالحکومت برلن میں ہونے والی اس خصوصی تقریب میں جرمن پارلیمان کے مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی موجود تھے اور ان کی طرف سے بھی ڈی ڈبلیو کی 65 ویں سالگرہ کی مبارکبادیں دی گئیں۔ فرانسیسی صدر امانویل ماکروں، یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی، جرمن وزیرخارجہ ہائیکوماس، یوکرائنی باکسر ولادیمیر کلچکو اور سابق افغان صدر حامد کرزئی جیسے رہنماؤں نے بھی ڈی ڈبلیو کی صحافتی اقدار کو سراہا ہے۔جرمن بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے 65 برس مکمل

ا ا / ا ب ا

DW.COM