ڈی چوک کا دھرنا اور مغلظات اگلتی مذہبی شخصیات | معاشرہ | DW | 30.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ڈی چوک کا دھرنا اور مغلظات اگلتی مذہبی شخصیات

ممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا جاری ہے لیکن وہاں موجود مذہبی شخصیات حکومت اور حریف مذہبی رہنماؤں کو ایسی گالیاں دے رہی ہیں، جنہیں سن کر کوئی بھی مہذب انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔

سوشل میڈیا پر متعدد ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، جن میں دھرنے کی قیادت کرنے والے پاکستان میں بریلوی مسلک کے چند مشہور مذہبی رہنما حکومت اور ممتاز قادری کی پھانسی سے متعلق اختلافی رائے رکھنے والے مذہبی رہنماؤں کو گالیاں دیتے دیکھے اور سنے جا سکتے ہیں۔ بظاہر ان ’مذہبی رہنماؤں‘ کے پیروکار لاکھوں میں ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر خود یہ ’رہنما‘ ایسی شرمناک گالیاں دیتے ہیں، تو ان کے زیر تعلیم رہنے والوں کی اخلاقی تربیت اور حالت کیسی رہتی ہو گی؟

پاکستانی صحافی سبوخ سید اس بارے میں کہتے ہیں، ’’گالی دینا تو کسی کو بھی کسی حالت میں درست نہیں اور خصوصاﹰ وہ طبقہ جو خود کو معاشرے میں اعلیٰ اخلاق اور کردار کا مالک سمجھتا ہو۔ ان کا مذہبی شخصیات کے لبادے میں نازیبا اور اخلاق سے انتہائی گری ہوئی گفتگو کرنا لوگوں کے لیے ایک بہت ہی حیران کن عمل ہے۔ میرے نزدیک مذہب کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ معاشرے میں بلند اخلاق اور کردار کے حامل انسان تیار کر تا ہے۔ تاہم جب مذہب ہی کو کرپٹ کر دیا جائے تو زوال کی ایسی صورتوں کا سامنے آنا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔‘‘

مذہبی موضوعات پر رپورٹنگ کا تجربہ رکھنے والے سبوخ سید کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اہل مذہب کی جانب سے گالم گلوچ اور پھر اس کا جواز نکالنا اخلاقی پستی اور تنزلی کی انتہا ہے۔ لوگ مذہب کتابوں سے نہیں، افراد اور معاشروں سے سیکھتے ہیں۔ اصولی طور پر مذہب نے تو روکا ہے کہ اپنے خدا کے مقابلے میں دوسروں کے خدا کو بھی برا نہ کہو۔ اب یہ گالیاں دینے والے ’مذہبی رہنما‘ کیسے بنے؟‘‘

اس بارے میں ایک پاکستانی بلاگر شازیہ نیئر لکھتی ہیں، ’’ڈی چوک پر بیٹھے یہ علمائے کرام، جو خود کو سب سے بڑے مسلمان اور علمائے دین قرار دیتے ہیں، ان کی زبان سے انتہائی غیر اخلاقی الفاظ سن کر مجھے شرم آ رہی ہے کہ ہم اپنا دین ان جیسے لوگوں سے سیکھ رہے ہیں، جنہیں خود بنیادی اخلاقیات کے سبق کی اشد ضرورت ہے۔‘‘

اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز کے اسسٹنٹ پروفیسر جمیل اصغر جامی نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’جس طرح بہت بے ہودہ اور فحش اشاروں اور ہر چار پانچ غلیظ گالیوں کے بعد مذہبی نعرے لگائے جا رہے ہیں، اس پر صرف شدید افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔‘‘

ایک اور پاکستانی صحافی فرنود عالم مذہبی رہنماؤں کی نازیبا گفتگو کی شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’جو گالی بھی مہذب انداز میں نہیں دے سکتے، وہ آپ کو کیا خاک شریعت سکھائیں گے؟ ذرا سوچیے تو!‘‘

پاکستان کے ایک سینیئر صحافی اویس توحید نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ حکومت کو دہشت گردی اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں سنی تحریک پر پابندی عائد کر دینا چاہیے اور مدنی ٹیلی وژن جیسے وہ ٹی وی چینل بھی بند کر دینے چاہییں، جو بغیر لائسنس کام کر رہے ہیں۔

سبوخ سید کہتے ہیں کہ سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے چہلم کے موقع پر اسلام آباد میں پولیس پر تشدد، توڑ پھوڑ، گالی گلوچ اور نازیبا الفاظ پر مبنی وال چاکنگ نے عوام کو ان مذہبی رہنماؤں کے بارے میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اسی طرح ایک اور پاکستانی فیس بک صارف نعیم احمد نے لکھا ہے، ’’یہ کیسے مذہبی رہنما ہیں، جو مذہب کے نام پر خود توہین مذہب جاری رکھے ہوئے ہیں اور کھلم کھلا گالیاں دے رہے ہیں۔ کیا یہی وہ اسلامی اخلاقیات ہے، جس کا دن رات اپنے خطبوں میں یہ عام لوگوں کو درس دیتے ہیں؟‘‘

اشتہار