ڈیمینشیا سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟ | معاشرہ | DW | 15.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ڈیمینشیا سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ڈیمینشیا کا کوئی مستقل علاج تو نہیں ہے لیکن جن عوامل سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے، ان پر قابو پا کر اس بیماری کے فعال ہونے میں تاخیر ضرور کی جاسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ایسے مریضوں کا خیال رکھنے اور دیکھ بھال کرنے والے افراد کے لیے ایک آن لائن تربیتی پروگرام بھی ترتیب دیا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ اور کے ڈائریکٹر ٹیڈروس ایڈینم گیبریاسس کے مطابق،’’تین سال بعد ڈیمینشیا کے مریضوں کی تعداد میں تیس گنا اضافہ ہو جائے گا۔‘‘ دماغی بیماری ڈیمینشیا کے بارے میں یہ رپورٹ عالمی ادارہ صحت نے منگل کو جاری کی ہے۔ ٹیڈروس ایڈینم گیبریاسس نے صحت کی اولین ترجیحات پر بات کرتے ہوئے ڈیمنشیا کے حوالے سے مستقبل کے خطرات کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق،’’ڈیمینشیا کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ ڈھلتی ہوئی عمر ہے۔ اسی لیے ڈیمینشیا سے بچنا ناگزیر ہے۔‘‘

ڈبلیو ایچ او کے مطابق،’’ہمیں ڈیمینشیا سے بچنے کے لیے وہ سب کچھ کرنا ہوگا، جو ہم کر سکتے ہیں۔ اس بیماری کے حوالے سے کچھ سائنسی شواہد اکھٹے کیے گئے ہیں۔ سائنسی تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ جو چیز انسانی دل کے لیے اچھی ہے، وہی انسانی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔‘‘

عالمی ادارہ صحت  کی جانب سے جاری کی گئیں نئی ہدایات کے مطابق،’’ڈیمینشیا سے متعلق علامات پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی تاکہ اُن وجوہات پر قابو پایا جا سکے، جن کے نتیجے میں یہ بیماری نمودار ہوتی ہے۔ یہ بیماری ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ انسانی دماغ میں بننے والے خلیے تیزی سے غیر فعال ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور روزمرہ زندگی بری طرح سے متاثر ہو جاتی ہے۔‘‘

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی گئی ہیں:

  • روزانہ ورزش کو معمول بنانا

  • تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا

  • نقصان دہ شراب کے استعمال سے گریز

  • وزن کو قابو میں رکھنا

  •  صحت مند غذا کو معمول بنانا

  • بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھنا

ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل رین منگھوئی نے رپورٹ میں لکھا ہے، ’’اگرچہ ڈیمینشیا کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن علامات پر قابو پا کر اس بیماری کے فعال ہونے میں تاخیر ضرورکی جاسکتی ہے۔‘‘

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے،’’وٹامنز اور سپلیمنٹس کا استعمال ڈیمینشیا کے مریضوں کے لیے مفید نہیں ہے اور  وافر مقدار میں ان کا استعمال نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ اس مطالعے میں ماحولیاتی عوامل شامل نہیں ہیں۔

ان ہدایات کو شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے افراد، مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد، حکومتی نمائندوں، پالیسی سازوں اور منصوبہ سازی کے حکام کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے ان تمام متعلقہ لوگوں کی سنجیدگی سے نگرانی کرنے کی تجویز دی ہے، جو ایسے مریضوں کا خیال رکھتے ہیں۔

ڈبلیوایچ او نے مریضوں کا خیا ل رکھنے والے افراد کے لیے ایک آن لائن ٹریننگ پروگرام بھی ترتیب دیا ہے۔ یہ پروگرام مریضوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے مشورے دیتا ہے۔ اس پروگرام میں مریضوں کے بدلتے رویوں سے نمٹنے کا حل بتایا جاتا ہے۔ مریضوں کے ساتھ ساتھ دیکھ بھال کرنے والوں کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔

ڈیمینشیا: ایک بڑھتا ہوا مسئلہ

ڈیمینشیا کی وجہ سے مریض کو درج ذیل مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

  • بھلکڑ پن: مثال کے طور پر، شناسا لوگوں اور واقعات کو یاد کرنے میں دقت محسوس کرنا۔

  • دماغ کا سوچ اور زبان پر قابو نہ رہ پانا۔

  • ان کاموں کے بارے میں منصوبہ بنانے اور نمٹانے میں دقت کا سامنا رہنا، جو ماضی میں آسانی سے کیے جاتے تھے۔

موجودہ اعداداو شمار کے مطابق،’’ دنیا بھر میں 50 ملین افراد کو اس بیماری نے متاثر کیا ہے، جس میں تقریباً ہر سال 10 ملین کا اضافہ ہو رہا ہے۔ سن دو ہزار تیس تک اس بیماری سے متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کے لیے سالانہ دو ٹریلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہو سکتی ہے۔

 

رافعہ اعوان (جے ایم⁄ اے پی)

 

DW.COM