ڈھاکا کیفے پر حملے کے ماسٹر مائنڈز کی شناخت ہو گئی، پولیس | حالات حاضرہ | DW | 02.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈھاکا کیفے پر حملے کے ماسٹر مائنڈز کی شناخت ہو گئی، پولیس

بنگلہ دیش کی پولیس نے ڈھاکا میں ایک کیفے پر ہوئے حملے کے ذمہ داروں کو شناخت کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان مبینہ ذمہ دار افراد کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے پر دو ملین ٹکا کے انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

Bangladesch Anschlag Schießerei in Dhaka

عسکریت پسندوں نے ڈھاکا میں ’ہولے آرٹیسن بیکری‘ نامی کیفے پر یکم جولائی کو حملہ کیا تھا

پولیس انسپکٹر جنرل شاہد الحق کے مطابق گزشتہ ماہ ڈھاکا کے ایک کیفے میں ہوئے حملے کے ماسٹر مائنڈز تمیم چوہدری نامی ایک شخص اور ضیاء نامی ایک سابقہ آرمی افسر ہیں۔ الحق نے مزید کہا،’’ہم مخبروں کے نام شائع نہیں کریں گے۔‘‘ عسکریت پسندوں نے بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا میں ’ہولے آرٹیسن بیکری‘ نامی کیفے پر یکم جولائی کو حملہ کیا تھا اور وہاں موجود بیس شہریوں کو ہلاک کرنے کے بعد باقی افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر افراد غیر ملکی تھے، جن میں سے نو کا تعلق اٹلی سے، سات کا جاپان سے، ایک کا بھارت سے، دو کا بنگلہ دیش سے اور ایک کا ریاست ہائے متحدہ امریکا سے تھا۔

اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ کمانڈو آپریشن میں چھ مشتبہ عسکریت پسند بھی مارے گئے تھے۔ ڈھاکا پولیس نے اس کارروائی کے لیے کالعدم تنظیم ’جمیعت المجاہدین بنگلہ دیش‘ کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ گو کہ اس کارروائی کی ذمہ داری جہادی تنظیم داعش نے قبول کی تھی لیکن بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا ہے کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے۔

Bangladesch Anschlag Schießerei in Dhaka

اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے

اطلاعات کے مطابق تمیم چوہدری بنگلہ دیشی نژاد کینیڈین شہری ہے، جو قریب تین برس قبل بنگلہ دیش واپس آ گیا تھا۔ بنگلہ دیش میں حالیہ کچھ برسوں سے شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے، جہاں لبرل دانشور شخصیات، بلاگرز اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔

سن 2005 میں جمیعت المجاہدین بنگلہ دیش نے تمام بنگلہ دیش میں سلسلہ وار بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی جن میں تیس افراد کی ہلاکتیں ہوئیں تھیں جبکہ 250 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش میں شرعی قانون نافذ کرنے کی مہم چلا نے والے اس گروپ کو سن دو ہزار پانچ میں ہونے والے بم حملوں کے بعد کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔

DW.COM

اشتہار