ڈورٹمنڈ نے جرمن کپ جیت لیا | کھیل | DW | 28.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ڈورٹمنڈ نے جرمن کپ جیت لیا

جرمنی میں ناک آؤٹ بنیاد پر کھیلا جانے والا قومی ٹورنامنٹ جرمن کپ کہلاتا ہے۔ رواں برس اس ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم ڈورٹمنڈ ہے۔

فٹ بال کے ٹورنامنٹ جرمن کپ کا فائنل میچ ہفتہ ستائیس مئی کو ڈورٹمنڈ اور آئنٹراخٹ فرینکفرٹ کی ٹیموں کے درمیان برلن کے اولمپک اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ یہ فائنل میچ ڈورٹمنڈ نے ایک کے مقابلے میں دو گول سے جیت لیا۔ ڈورٹمنڈ کی جانب سے فتح کا نشان بننے والا گول پیرئر ایمریک اوبمیانگ نے کیا۔ یہ امر اہم ہے کہ رواں برس قومی لیگ بنڈس لیگا میں فرانس سے تعلق رکھنے والے فٹ بالر اوبمیانگ نے سب سے زیادہ گول کر رکھے ہیں۔ انہوں نے چالیس گول کیے ہیں۔

ڈورٹمنڈ مسلسل چوتھی مرتبہ جرمن کپ کا فائنل کھیل رہی تھی۔ یہ ٹیم گزشتہ تینوں فائنل مقابلے ہار گئی تھی۔ جرمن کپ جیتنے پر ڈورٹمنڈ کلب کے صدررائن ہارڈ راؤبال کا کہنا تھا کہ یہ تاریخی اور شاندار لمحہ ہے کیونکہ ٹیم نے اس جیت ہی کے لیے بھرپور محنت کر رکھی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپریل میں کیے گئے بم حملے کے بعد ڈورٹمنڈ کے کھلاڑیوں نے اپنے آپ کو کمزور نہیں کیا اور اُن کے جذبے بلند رہے۔

Deutschland Dortmund gewinnt den DFB-Pokal (Reuters/F. Bensch)

ڈورٹمنڈ کی ٹیم مسلسل تین فائنل میچ ہارنے کے بعد کپ جیتنے میں کامیاب رہی

ڈورٹمنڈ کے کوچ تھوماس ٹوخل نے کوچنگ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد یہ پہلا بڑا ٹورنامنٹ جیتا ہے۔ ٹوخل کی ٹیم نے سیمی فائنل مرحلے کے میچ میں جرمنی کی تاریخ ساز فٹ بال کلب بائرن میونخ کو شکست دی تھی۔ انہوں نے ٹورنامنٹ جیتنے کو اپنے کوچنگ کیریر کا سنہرے لمحات میں سے ایک قرار دیا۔

جرمن فٹ بال کپ کے حصول کا ٹورنامنٹ اس لیے دلچسپ ہے کہ اس میں جرمنی کی بیشتر ٹیمیں شرکت کرتی ہیں۔ ٹاپ لیول سے لے کر چوتھے درجے کی ٹیموں کو اس ٹورنامنٹ میں شرکت کا موقع ملتا ہے۔ جرمن کپ میں کل 64 ٹیمیں شریک ہوتی ہیں۔

اس ٹورنامنٹ کا آغاز سن 1935 میں ہوا تھا۔ ٹورنامنٹ کا فائنل جرمن دارالحکومت برلن میں کھیلا جاتا ہے۔ اب تک بائرن میونخ کی ٹیم جرمن کپ کو سب سے زیادہ مرتبہ جیتنے کا اعزاز رکھتی ہے۔ ٹورنامنٹ ناک آؤٹ بنیاد پر کھیلا جاتا ہے یعنی جو ٹیم میچ ہار گئی وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتی ہے۔ میچ برابر رہنے کی صورت میں اضافی وقت میں فیصلہ حاصل کیا جاتا ہے۔

اشتہار