1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ڈنمارک نے جنوبی کوریائی نوڈلز پر پابندی کیوں لگائی؟

13 جون 2024

ڈنمارک کے محکمہ خوراک کے حکام نے نوڈلز کے دیوانوں کو متنبہ کیا ہے کہ جنوبی کوریا سے درآمد کردہ تین اقسام کی فوری تیار ہونے والی انسٹنٹ نوڈلز میں مسالے اتنے زیادہ تیز ہیں کہ وہ جسم میں شدید زہر کا باعث بن سکتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/4gz3R
نوڈلز
یہ نوڈلز سیول کی سام ینگ فوڈز نامی کمپنی تیار کرتی ہے جو دنیا بھر میں فروخت کی جاتی ہیںتصویر: AP/picture alliance

ڈنمارک کی فوڈ ایجنسی نے انسٹنٹ نوڈلز بنانے والی ایک غیر ملکی کمپنی کے تین برانڈز کے ملک میں فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔ حکام نے متنبہ کیا ہے کہ ان میں مسالے اتنے زیادہ تیز ہیں کہ ان کی وجہ سے جسم میں شدید زہر پھیل سکتا ہے۔

یہ نوڈلز سیول کی سام ینگ فوڈز نامی کمپنی تیار کرتی ہے، جو جنوبی کوریا کی سب سے بڑی فوڈ کمپنیوں میں سے ایک ہے اور اس کی مصنوعات دنیا بھر میں فروخت کی جاتی ہیں۔

بھارت میں میگی نوڈلز کی تیاری، فروخت پر پابندی

’غیر معیاری میگی نوڈلز‘، بھارت میں نیسلے کو جرمانہ

جن نوڈلز پر پابندی لگائی گئی ہے، ان میں بلڈک سام یانگ تھری ایکس اسپائسی اینڈ ہاٹ چکن، بلڈک سام یانگ ٹو ایکس اسپائسی اینڈ ہاٹ چکن اور بلڈک سام یانگ ہاٹ چکن اسٹیو شامل ہیں۔

ڈنمارک کی ویٹرنری اینڈ فوڈ ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات میں کیپسیاسن (Capsiacin) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کیپسیاسن مرچ میں پایا جانے والا وہ فعال جزو اور کیمیائی مرکب ہے، جسے کھانے کے بعد جلن محسوس ہونے لگتی ہے۔

یہ مادہ نیورو ٹاکسک یعنی اعصاب کے لیے نقصان دہ اور زہریلا بھی ہو سکتا ہے اور انسانی صحت کے لیے خطرہ بھی بن سکتا ہے۔

ڈنمارک میں حکومت کی جانب سےان نوڈلز پر روک لگا دینے کے اقدامات نے سوشل میڈیا پر ایک گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے
ڈنمارک میں حکومت کی جانب سےان نوڈلز پر روک لگا دینے کے اقدامات نے سوشل میڈیا پر ایک گرما گرم بحث چھیڑ دی ہےتصویر: YONHAPNEWS AGENCY/picture alliance

ڈینش حکام نے کیا کہا؟

ڈنمارک کی فوڈ ایجنسی نے کہا، ''انتہائی تیز مسالوں والی نوڈلز فروخت نہیں کی جانا چاہییں کیونکہ ان سے صارفین بالخصوص بچوں کو شدید زہر خورانی کا خطرہ ہے۔‘‘

فوڈ ایجنسی نے اپنے بیان میں مزید کہاکہ ان مصنوعات میں کیپسیاسن کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ یہ صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس بیان میں ڈینش شہریوں سے کہا گیا، ''اگر آپ کے پاس یہ پروڈکٹس ہیں، تو آپ انہیں ضائع کردیں یا انہیں ان اسٹورزکو واپس کر دیں جہاں سے وہ خریدی گئی تھیں۔‘‘

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے ڈینش فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے ہینرک ڈمنڈ نیلسن کے حوالے سے بتایا کہ ان مصنوعات سے بچوں اور کمزور صحت والے بالغوں حتیٰ کہ بزرگ شہریوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

سامیانگ کی مصنوعات دنیا بھر میں کافی مقبول ہیں۔ اس کمپنی کا منافع سن 2023 میں 110بلین ڈالر سے بھی زیادہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

اس کمپنی نے کہا ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اس کی مصنوعات کو بہت زیادہ مسالے دار قرار دے کر ان پر پابندی لگائی گئی ہے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ اس پیش رفت سے اسے اپنے لیے بیرون ملک منڈیوں کے ضابطوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

مسالے دار کھانے ایک بڑا چیلنج

مسالے دار کھانے برسوں سے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ڈنمارک کی فوڈ ایجنسی نے کہا ہے کہ اس شمالی یورپی ملک میں بچے اور نوجوان بہت مسالے دارکھانے کھانے کے معاملے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے اور اسے ثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔

ہینرک نیلسن نے کہا، ''یہ ضروری ہے کہ والدین ایسی نوڈلز کی انتہائی اقسام سے آگاہ ہو ں اور ان سے پرہیز کریں اور کروائیں۔‘‘

ڈنمارک میں حکومت کی جانب سے صحت سے متعلق انتباہات اور ان نوڈلز پر روک لگا دینے کے اقدامات نے سوشل میڈیا پر ایک گرما گرم بحث بھی چھیڑ دی ہے۔

بہت سے صارفین نے ڈنمارک کے لوگوں کی انتہائی مسالے دار کھانوں کے حوالے سے کم قوت برداشت پر تبصرے بھی کیے ہیں۔

سمندری گھاس کے لذیذ نوڈلز

ج ا/م م (اے پی، اے ایف پی)