ڈاکٹر روتھ فاؤ کے نام کا سکہ | معاشرہ | DW | 07.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ڈاکٹر روتھ فاؤ کے نام کا سکہ

پاکستان میں کئی دہائیوں تک جذام کے مرض کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی آنجہانی جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پاکستان کے مرکزی بینک نے ان کی شبیہ والے سکے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے پاکستانی اسٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈاکٹر روتھ فاؤ کی شبیہہ والا سکہ 50 روپے مالیت کا ہو گا جبکہ ایسے 50 ہزار سکے جاری کیے جائیں گے۔ قمر کے مطابق ڈاکٹر روتھ فاؤ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سکہ جاری کرنے کا فیصلہ ملکی کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ گزشتہ برس اگست میں 87 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئی تھیں۔ ان کے نام کے یاددگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ کراچی ہی میں دفنایا گیا تھا۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان کی اعزازی شہریت بھی رکھتی تھیں۔ ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی طرف سے کراچی میں قائم کیے گئے میری ایڈیلیڈ لیپرسی سنٹر میں ان کے رہائشی کمروں کو اب ایک میوزیم کی شکل دی جا چکی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:33

ڈاکٹر روتھ فاؤ کی خدمات کا اعتراف، خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

ایک راہبہ کے طور پر پاکستان کا دورہ کرنے والی ڈاکٹر رُتھ فاؤ نے اس ملک میں جذام کے مرض میں مبتلا افراد کے علاج اور پاکستان سے اس مرض کے خاتمے کا مقصد لیے چھ دہائیوں سے بھی زائد عرصہ پاکستان میں گزارا۔ ڈاکٹر فاؤ نے کراچی کے علاقے ملیر کی جس جھونپڑی میں جذام کے پہلے مریض کا علاج کیا تھا وہاں بعد ازاں ایک ہسپتال تعمیر کیا گیا جس کے لیے فنڈنگ جرمنی نے بھی فراہم کی تھی۔

Audios and videos on the topic