ڈاووس: چینی صدر شی جن پنگ کی ’تسلط اور دھونس‘ کی پالیسی کے خلاف تنبیہ | حالات حاضرہ | DW | 17.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

ڈاووس

ڈاووس: چینی صدر شی جن پنگ کی ’تسلط اور دھونس‘ کی پالیسی کے خلاف تنبیہ

ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تصادم کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ’تباہ کن‘ نتائج ہوں گے۔

سوئٹزرلینڈ: ڈاووس میں چینی صدر شی جن پنگ کا عالمی اقتصادی فورم سے خطاب

چینی صدر شی جن پنگ کا عالمی اقتصادی فورم سے خطاب

چینی صدر شی جن پنگ  نے آج بروز پیر دنیا کو 'پروٹیکشنزم‘ کے خلاف خبردار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی مسائل کو حل کرنے کے لیے تعاون کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر شی نے کسی ملک کا نام لیے بغیر ''نظریاتی دشمنی  کو ہوا دینے، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی مسائل‘‘ پر سیاست کرنے کے خلاف بھی خبردار کیا۔

صدر شی کا خطاب

چینی صدر کے بقول، ''تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہےکہ محاذ آرائی  سے مسائل حل نہیں ہوتے، یہ صرف تباہ کن نتائج کو دعوت دیتی ہے۔‘‘ اس سے قبل انہوں نے کہا کہ اعتماد اور تعاون کے ساتھ ہی  کورونا وائرس کی عالمی وبا  کو شکست دی جا سکتی ہے۔

صدر شی کا یہ بیان چین اور امریکا کے مابین بڑھتے مختلف تنازعات کے جواب میں سامنے آیا ہے، جن میں تائیوان کی خودمختاری، دانشورانہ ملکیتی حقوق، تجارت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے معاملات شامل ہیں۔

بیجنگ حکومت واشنگٹن پر ''سیاسی جوڑ توڑ اور اقتصادی دباؤ ڈالنے‘‘  کا الزام عائد کرتی ہے۔ جبکہ چین پر بھی بحیرہ جنوبی چین میں اپنے علاقائی دعوؤں کے تحت کئی چھوٹے ممالک کے ساتھ تنازعات میں دھونس جمانے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

عالمی اقتصادی فورم

چینی صدر عالمی اقتصادی فورم  کے پہلے روز آن لائن خطاب کر رہے تھے، جو کہ ہر سال سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں منعقد ہوتا ہے۔ تاہم کورونا وبا کے سبب اس مرتبہ ورچوئل ورلڈ اکنامک فورم کا انعقاد کیا گیا ہے۔

چینی صدر کے علاوہ  بھارتی وزیراعظم نریندر مودی،  اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کا خطاب بھی متوقع ہے۔ اس دوران امریکا میں متعدی امراض کے سربراہ انتھونی فوچی ایک مباحثے میں شرکت کریں گے، جس میں کورونا وبا کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی جائے گی۔

علاوہ ازیں عالمی اقتصادی فورم کے دوسرے روز اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور جاپانی وزیراعظم کشیدا فومیو بھی تقاریر کریں گے۔ جرمنی کے اولاف شولس بھی پہلی مربتہ بطور چانسلر بدھ کے روز خطاب کریں گے۔

ع آ / ا ا (رچرڈ کونر)

ویڈیو دیکھیے 01:16

بچیوں کی تعلیم کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، ملالہ

DW.COM

Audios and videos on the topic