ڈالر کی جگہ یوآن میں تجارت، پاکستان کو فائدہ یا نقصان؟ | حالات حاضرہ | DW | 11.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈالر کی جگہ یوآن میں تجارت، پاکستان کو فائدہ یا نقصان؟

پاکستان نے برآمدات، در آمدات، سرمایہ کاری اور دو طرفہ تجارت کے لیے چینی کرنسی یوآن کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ اقتصادی ماہرین کی رائے میں یہ عمل سی پیک منصوبے میں بھی مدد گار ثابت ہو گا۔

چین نے پینتیس سے چالیس ممالک کے ساتھ ’کرنسی سواپ‘ کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ممالک ایک دوسرے کی کرنسی میں تجارت کر سکتے ہیں۔ چین اور پاکستان نے بھی اس معاہدے پر 2012ء میں دستخط کیے تھے۔جب سی پیک منصوبہ شروع ہوا تو چین اور پاکستان کے درمیان تجارت کے حجم میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا اور پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ چین اور پاکستان کی تجارت ڈالر کے بجائے یوآن میں ہوگی۔

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی  کے اسکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز کے پرنسپل اور ڈین ڈاکٹر اشفاق حسن  نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’چین پاکستان سے 1.8 ارب ڈالر مالیت کی اشیا درآمد کرتا ہے جب کہ پاکستان چین سے لگ بھگ 11 ارب ڈالر مالیت کی اشیا درآمد کرتا ہے، تو حکومت  سوچ رہی تھی کہ اس فرق کو کیسے دورکیا جائے؟ اب دونوں ممالک کے مابین ’تجارتی سیٹیلمنٹ‘ یوآن میں  ہو گی۔‘‘ حسن کہتے ہیں کہ پاکستان چین سے قرضہ لے تو ہو سکتا ہے کہ وہ ڈالر کے بجائے یوآن میں لے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں پاکستان یورپ میں یورو بانڈز کے بجائے یوآن بانڈز ہانگ کانگ میں متعارف کرائے اور اس پیسے کو ’ٹریڈ سیٹیلمنٹ‘ کے لیے استعمال کرے۔

چینی یوآن میں تجارت کی جا سکتی ہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک

پاکستان: تجارت کے ليے ڈالر کی جگہ يوآن کے استعمال پر غور

ڈاکٹر حسن نے مزید کہا کہ اس عمل سے مستقبل میں  پاکستان میں ڈالر کی مانگ کم ہوگی۔  ان کا کہنا تھا، ’’چین اور روس بھی یوآن میں تجارت کرتے ہیں۔ اس وقت چالیس سے پچاس فیصد تجارت یوآن میں ہو رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تجارت یوآن میں منتقل ہو رہی ہے اور اسی لیے عالمی سطح پر ڈالر کی مانگ میں کمی آئی ہے۔‘‘

چینی کرنسی کا شمار اب ’انٹرنیشنل ریزرو کرنسی‘ میں ہوتا ہے۔ قبل ازیں آئی ایم ایف نے برطانوی پاؤنڈ، جاپانی ین، امریکی ڈالر،  اور یورو کو اس زمرے میں شمار کر رکھا تھا تاہم اب اس میں یوآن بھی شامل ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر حسن کے مطابق  جن ملکوں کو ڈالر کی وجہ سے اقتصادی دباؤ کا سامنا ہوتا تھا وہ اب چینی کرنسی یوآن میں تجارت کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے نامور ماہر اقتصادی ماہر  ثاقب شیرانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’حکومت اس عمل کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانا چاہتی ہے۔ اس وقت پاکستان اور چین کی مشترکہ تجارت اور سرمایہ کاری 14 ارب ڈالر کے قریب ہو رہی ہے۔ اس میں سے صرف دو طرفہ تجارت کا حجم 12.2 ارب ڈالر ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور سی پیک کی وجہ سے چین پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔‘‘

شیرانی کے مطابق دو طرفہ تجارتی حجم اور گزشتہ بارہ ماہ کے دوران پاکستان میں غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کے باعث حکومت کی طرف سے یہ  فیصلہ صحیح وقت پر کیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان کے ’بیلنس آف پیمنٹس‘ کو فائدہ ہوگا۔

ویڈیو دیکھیے 00:50
Now live
00:50 منٹ

پاکستان اور چین کے درمیان اہم معاہدوں پر دستخط

ثاقب شیرانی یہ بھی کہتے ہیں کہ یوآن میں تجارت کرنے سے سی پیک منصوبے میں شامل دونوں ممالک کے مشترکہ منصوبوں کے لیے تجارت میں بھی آسانی ہوگی۔ اس کے علاوہ پاکستان بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے بھی امریکی ڈالر کے علاوہ یوآن بھی استعمال کر سکے گا۔ مستقبل میں پاکستان چین کے بینکوں اور دیگر فنانشل ادروں نے یوآن کرنسی میں قرضہ بھی لے سکے گا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic