چیک جمہوریہ میں مخملیں انقلاب کا جذبہ تیس سال بعد بھی زندہ | معاشرہ | DW | 16.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

چیک جمہوریہ میں مخملیں انقلاب کا جذبہ تیس سال بعد بھی زندہ

سابق چیکوسلوواکیہ میں سترہ نومبر سن 1989 کو مخملیں انقلاب کا آغاز ہوا تھا۔ اس انقلابی تحریک کو کمیونسٹ دور حکومت میں پولیس کے شدید جبر کا سامنا رہا تھا۔

تیس برس قبل پراگ شہر کے وسطی حصے میں انقلابی تحریک کے ایک بڑے مارچ نے ویلوٹ انقلاب کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کے نتیجے میں اپوزیشن گروپ سوک فورم قائم کیا گیا تھا۔ اس تحریک میں یونیورسٹی کے طلبہ پیش پیش تھے اور اس انقلاب کو تقویت دینے میں اُن کی ہڑتالیں بھی بہت کارگر ثابت ہوئی تھیں۔

اُس وقت کی طلبہ تحریک کی سربراہی اولوموک شہر میں واقع پلاسکی یونیورسٹی کے طالب علم ویٹ پوہانکا کو تفویض کی گئی تھی۔ تیس برس قبل کی اس تحریک کے دور کو یاد کرتے ہوئے پوہانکا کا کہنا ہے کہ کئی طلبہ کو یقین تھا کہ انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا جائے گا یا پھر وہ جیلوں میں ڈال دیے جائیں گے۔ پوہانکا نے اُن لمحات کو خوفزدہ کر دینے والے قرار دیا۔

Tschechien 30 Jahre nach der Samtenen Revolution Vit Pohanka (Privat)

پلاسکی یونیورسٹی کے طالب علم ویٹ پوہانکا (بائیں) طلبا کے اولین لیڈر تھے

طلبہ اور حکومت مخالفین کی تحریک کو تقویت ملی اور مظاہروں میں تسلسل کے ساتھ ساتھ ان کے شرکاء کی تعداد میں اضافہ بھی ہوتا چلا گیا۔ اس انقلابی تحریک کی شدت کے سامنے کمیونسٹ پارٹی ہار گئی۔ یہ بات ستائیس دسمبر سن 1989 کی ہے۔ کمیونسٹ حکومت کے منحرفین میں نمایاں نام واسلاو ہاویل کا تھا اور انہیں نیا صدر منتخب کر لیا گیا۔ ہاویل کی جیل سے رہائی قریب ایک برس قبل ہوئی تھی۔ اس طرح چار دہائیوں پر محیط کمیونسٹ دور حکومت اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

سترہ نومبر کو شروع ہونے والے مظاہروں کے سلسلے میں سب سے آگے سیکنڈری اسکول کی ایک طالبہ ماگڈالینا پلاٹسووا تھیں۔ وہ پولیس کریک ڈاؤن کا پراگ کی گلیوں اور سڑکوں پر مسلسل سامنا کرتی رہی تھیں۔ اس تحریک کی مناسبت سے پلاٹسووا نے بتایا کہ اقتصادی حالات کمزور ترین سطح پر تھے اور اس وجہ سے پورا ملک انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ ان کے مطابق لوگوں میں اچانک بیداری کی لہر پیدا ہوئی اور وہ آمریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

Tschechien Protestkundgebung fordert Rücktritt des tschechischen Premierministers Andrej Babis in Prag (picture-alliance/AP Photo/P. D. Josek)

انقلابی تحریک کی شدت کے سامنے کمیونسٹ پارٹی ہار گئی۔ یہ بات ستائیس دسمبر سن 1989 کی ہے

مخملیں انقلاب کی شروعات کرنے والے طلبہ کے رہنما ویٹ پوہانکا کا کہنا ہے کہ سبھی طلبہ نوجوان تھے اور وہ کچھ بھی کرنے کے جذبے سے سرشار اور بہت پرجوش تھے۔ پوہانکا کے مطابق آج اُس دور کو یاد کرنا باعث مسرت ہے۔ چیک لوگوں میں وقت کے ساتھ یہ پرجوش کیفیت معدوم ہو گئی ہے لیکن وہ آج بھی زندہ ہے۔

چیک جمہوریہ میں طلبہ آج بھی سرگرم ہیں۔ ایسے طلبہ کی ایک تنطیم 'ملین مومنٹس برائے جمہوریت‘ ہے۔ اس کے نائب سربراہ بیمجمن رول کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت بھی کمیونسٹ دور کی باقیات سے نبرد آزما ہیں۔ رول کا اشارہ موجودہ وزیر اعظم آندرے بابیس کی جانب تھا۔ بابیس چیک چمہوریہ کی امیر ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ذرائع ابلاغ کے کئی اداروں کے مالک ہیں۔ باببیس آمریت کے دور کی پولیس کے ایک ایجنٹ کے طور پر ملازم بھی رہے ہیں۔

Tschechien 30 Jahre nach der Samtenen Revolution Benjamin Roll (DW/I. Willoughby)

طلبہ کی ایک تنطیم 'ملین مومنٹس برائے جمہوریت‘ کے نائب سربراہ بیمجمن رول

طلبہ نے 'ملین مومنٹس برائے جمہوریت‘ اُن کی حکومت کے ہتھکنڈوں کے تناظر میں قائم کی ہے۔ رول کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم اختیارات اور اقتدار پر کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں اور اُن کی تنظیم ایسے ہی رویوں کی بنیاد پر اُن کے استعفے کا مطالبہ کرتی ہے۔ رواں برس جون میں اس تنظیم کی ایک ریلی میں ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ شہری شریک ہوئے تھے۔ اس ریلی کو ویلوٹ انقلاب کا تسلسل قرار دیا گیا۔ سن 1989 کے بعد حکومت کے مخالفین کا یہ سب سے بڑا اجتماع تھا۔

بینجمن رول کا یہ بھی کہنا ہے کہ ویلوٹ انقلاب کے شرکا اب مایوس ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ گزشتہ تیس برسوں کے دوران سماجی اور اقتصادی سطح پر مثبت پیش رفت کم ہوئی ہے۔ ایک تازہ سروے میں چالیس برس سے زائد کی عمر کے اڑتیس فیصد لوگوں نے سابقہ حکومت (کمیونسٹ دور) کو بہتر قرار دیا۔ کم تعلیم یافتہ افراد میں یہ شرح باون فیصد رہی۔ پوہانکا کا خیال ہے کہ لوگوں کو اب بھی ماضی پرستی زیادہ مرغوب ہے اور وہ سابقہ دور کو یاد کرتے ہیں۔

ایان ویلوبائی (عابد حسین)

DW.COM