چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان بھارت-امریکا فوجی تعاون میں اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 22.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان بھارت-امریکا فوجی تعاون میں اضافہ

بھارتی اور چینی افواج کے درمیان لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر حالیہ تصادم کے واقعات کے درمیان بھارت اور امریکا نے نہایت خاموشی سے ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعلقات میں اضافہ اور انٹلی جنس معلومات کا تبادلہ تیز کردیا ہے۔

اس دوران بھارت اور امریکا کی بحریہ نے بھارتی جزائر انڈمان اور نکوبار کے قریب بحیرہ ہند میں مشترکہ جنگی مشقیں کی ہیں، جسے دونوں ملکوں کے مابین اسٹریٹیجک تعاون میں مزید اضافے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

چین کے ساتھ سرحد پر بھارت کی حالیہ جھڑپ اور سرحدی تعطل نیز امریکا اور چین کے درمیان جار ی تجارتی تنازعے نے نئی دہلی اور واشنگٹن کو ایک دوسرے کے زیادہ قریب کردیا ہے۔ دونوں ملکوں نے پچھلے ہفتوں کے دوران انٹلیجنس معلومات اور فوجی تعاون کو زیادہ مضبوط کیا ہے اور یہ اس وقت غیر معمولی سطح پر ہے۔

بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق لداخ میں ایل اے سی پر بھارتی اورچینی افواج کے درمیان تصادم کے بعد بھارت اور امریکا نے بڑی خاموشی کے ساتھ انٹلیجنس معلومات کا تبادلہ تیز کردیا ہے۔ یہ نئی پیش رفت امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان جون کے تیسرے ہفتے میں ہونے والی بات چیت کے بعد ہوئی ہے۔ اس کے بعد سے دونوں رہنما فون پر اب تک کم از کم دو مرتبہ بات چیت کرچکے ہیں۔

اتناہی نہیں بلکہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے اپنے امریکی ہم منصب رابرٹ برائن اور بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل کے چیئرمین مارک میلے سے بات چیت کی ہے۔ اس دوران دونوں ملکوں نے سکیورٹی، ملٹری اور انٹلیجنس جیسے شعبوں میں معلومات کے تبادلے کو تیز کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

Indischer Grenzsoldat an der Grenze zu China

گزشتہ جون میں بھارت اور چین کے درمیان ایل اے سی پر تصادم کے دوران 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک سیٹلائٹ تصویریں، ٹیلی فون کالس، ایل اے سی پر تعینانت چینی افواج اور ہتھیاروں سے متعلق اعداد و شمار بھی ایک دوسرے کو شیئر کررہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکا اس باہمی تعاون کے بارے میں عوامی طورپر بتانے سے گریز کر رہے ہیں کیوں کہ اس وقت نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان سفارتی اور فوجی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔

اس دوران بھارت کے جزائز انڈمان اور نکوبار کے قریب سمندری علاقے میں پیر کے روز امریکی اوربھارتی بحریہ کی مشترکہ جنگی مشقیں ہوئیں۔ اس مشق میں امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس نیمیٹز نے بھی حصہ لیا۔ مشترکہ مشقوں کے دوران دونوں ممالک نے پیسیج ایکسرسائیز کیا۔ اس مشق کو بھارت اور امریکا کے مابین اسٹریٹیجک تعاون میں مزید اضافہ قرار دیا جارہا ہے۔

امریکی بحریہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں یو ایس ایس نیمیٹز کے کمانڈر ریئر ایڈمرل جم کرک نے کہا کہ ان مشقوں سے ہماری مہارت میں اضافہ ہوگا اور دونوں بحری افواج کی اہلیت بڑھے گی جس سے سمندر کے راستے سے آنے والے خطرات یا پھر قذاقی اور دہشت گردی سے مل کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

بھارتی ذرائع کے مطابق امریکا، جاپان اوربھارت پر مشتمل سالانہ مالابار بحری مشقوں میں بھارت آسٹریلیا کو بھی مدعو کرسکتا ہے۔ ان چاروں ملکوں کی شرکت کا مقصد چین کو خبر دار کرنا ہے۔

 دفاعی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت امریکا کے ساتھ اس مشترکہ مشق اور مجوزہ مالابار بحری مشقوں کے ذریعہ چین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے بلکہ امریکا اور دیگر ممالک بھی اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

DW.COM