چین کا ہائپرسونک میزائل تجربہ ′سپوتنک′ جیسا لمحہ تھا، امریکی جنرل | حالات حاضرہ | DW | 28.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

چین کا ہائپرسونک میزائل تجربہ 'سپوتنک' جیسا لمحہ تھا، امریکی جنرل

امریکی فوج کے سربراہ نے چین کے جوہری صلاحیت کے حامل ہائپرسونک میزائل کے مبینہ تجربے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس تجربے کا موازنہ سرد جنگ کے زمانے میں سابقہ سوویت یونین کے 'سپوتنک' تجربے سے کیا۔

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے چین کے ہائپرسونک میزائل تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے ہائپر سونک ہتھیاروں کے سسٹم میں اہم پیش رفت کرلی ہے اور امریکا کے لیے اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔

مارک ملی چین کے کامیاب تجربے کی تصدیق کرنے والے پینٹاگون کے پہلے اعلی ترین عہدیدار ہیں۔ انہوں نے بلوم برگ ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،”ہم نے جو دیکھا وہ ہائپرسونک ہتھیاروں کے نظام کے ٹیسٹ کا ایک بہت اہم واقعہ تھا اور یہ بہت ہی تشویش ناک ہے۔"

امریکا کے فوجی سربراہ نے چین کے ہائپر سونک میزائل کے تجربے کا موازنہ سرد جنگ کے دوران خلائی دوڑ میں سوویت یونین کے سبقت حاصل کرلینے سے کیا۔ جنرل مارک ملی کا کہنا تھا،”مجھے نہیں معلوم کہ یہ واقعی سپوتنک جیسا لمحہ تھا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس کے انتہائی قریب تر تھا۔"

سوویت یونین نے سن 1957میں دنیا کے پہلے سیٹیلائٹ سپوتنک کو خلاء میں بھیج کر امریکا کو حیرت زدہ کردیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی دوڑ میں امریکا کو تکنیکی طورپر پیچھے رہ جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔

ہائپرسونک ہتھیار اتنے اہم کیوں ہیں؟

جنرل مارک ملی نے چین کے ہائپر سونک میزائل کے تجربے کی تصدیق اب کی ہے۔ حالانکہ برطانوی اخبار فائنانشیل ٹائمزنے جولائی میں ہی خبر شائع کی تھی کہ چینی فوج نے جوہری صلاحیت والے ہائپر سونک ہتھیاروں کا تجربہ کیا ہے۔ اخبار نے لکھا تھا کہ اس تجربے نے واشنگٹن کو حیران کردیا تھا۔

 فائناننشل ٹائمز کے مطابق میزائل نے کم اونچائی اور آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار سے زمین کے گرد چکر لگایا۔ تاہم اس کا ہدف محض 30 کلومیٹر دور رہ گیا تھا۔

ہائپر سونک میزائل کی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف آواز سے پانچ گنا سے زیادہ تیز رفتار سے سفر کرتا ہے بلکہ اس کا پتہ لگانا اور اسے روکنا بھی زیادہ مشکل ہے۔

مستقبل کی جنگی صلاحیتوں کے حوالے سے ا س یکنالوجی پر سب سے زیادہ تیزی سے کام ہورہا ہے اور ہتھیاروں کی اس نئی دوڑ میں چین کی  پیش رفت کی خبروں نے امریکا کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔ امریکا بھی ہائپرسونک ہتھیاروں پرکام کررہا ہے تاہم جنرل ملی کے مطابق چین جس میعار کو حاصل کرچکا ہے اس میعار کا کوئی تجربہ امریکا ابھی تک نہیں کرسکا ہے۔

جنرل ملی کا کہنا تھا،”یہ انتہائی اہم تکنیکی واقعہ ہوا ہے...اوراس نے ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے۔"

حالانکہ چین نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دوبارہ قابل استعمال کی جانے والی خلائی گاڑی کا معمول کا تجربہ تھا۔

امن کو لاحق خطرات

امریکا، روس اور شمالی کوریا ہائپر سونک ٹیکنالوجی کا تجربہ کرچکے ہیں تاہم چین نے اس سال کے اوائل میں جو تجربہ کیا تھا اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طویل دوری کا تجربہ تھا۔

واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ چین بحرالکاہل خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے جسے امریکا اور اس کے اتحاد ی اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

پنٹاگون کے ترجمان جان کربی نے چین کے ہائپر سونک تجربات کے بارے میں بدھ کے روز پوچھے جانے پر اس کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ چین کی فوجی صلاحیتوں میں کوئی بھی بڑی پیش رفت”خطے اور اس سے باہر کشیدگی کو کم کرنے میں بہت کم مدد کرتی ہے۔"

ج ا/ ص ز (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM