چین نے کس طرح لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس کو شکست دی؟ | دستک | DW | 05.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

چین نے کس طرح لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس کو شکست دی؟

پچھلے سال کے شروع کی بات ہے، کوروناوائرس چین کے صرف ایک صوبے ہوبے تک ہی محدود تھا۔ چینی حکومت نے ووہان سمیت ہوبے کے کئی شہروں میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا۔

ان شہروں میں نہ تو کسی کو داخل ہونے کی اجازت تھی اور نہ باہر نکلنے کی۔ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند کر دی گئی تھی۔ لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی سخت ہدایت کی گئی تھی۔ بقیہ ملک پوری دنیا کی طرف ووہان پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ چین میں زیادہ تر کام آن لائن ہی نمٹ جاتے ہیں اور یہاں لاک ڈاؤن کے باوجود زندگی ویسے نہیں رکی جیسے پاکستان میں لوگوں کی رک گئی تھی۔ اس کے باوجود ایک نامعلوم وقت تک گھر میں بند رہنے کا خیال کسی بھی انسان کو پریشان کرنے کے لیے کافی تھا۔

ایک سٹوری کے لیے ووہان میں موجود کچھ پاکستانی طلبہ سے بات ہوئی تو پتا چلا کچھ یونیورسٹیوں میں طلبہ کو اپنے ہاسٹل سے بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ گرچہ یونیورسٹی ان کا بہت دھیان رکھ رہی تھی لیکن " کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے" جیسے سوال انہیں پریشان کر رہے تھے۔ ایک طالب علم کہنے لگے میرا کمرہ ہائی وے کے پاس ہے۔ دن میں کئی بار ایمبولنس کی آواز سنتا ہوں۔ ہر بار سوچتا ہو کہ اس میں مریض ہوگا یا اس کی نعش ہوگی۔ یونیورسٹی انتظامیہ ان کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا مکمل خیال رکھ رہی تھی۔ انہیں یونیورسٹی کی طرف سے تین وقت کا کھانا مل رہا تھا۔ ایک یونیورسٹی میں طلبہ نے نوڈلز سے تنگ آ کر آٹے کا مطالبہ کیا تو یونورسٹی نے انہیں وہ بھی فراہم کر دیا۔

میں اس وقت ووہان سے ۱۱۷۵ کلومیٹر دور بیجنگ میں اپنی یونیورسٹی میں موجود تھی۔ بیجنگ میں بھی کیسز آنا شروع ہو چکے تھے۔ ہر روز چین کے کسی نہ کسی حصے سے کیسز کی خبر آ رہی تھی۔ حتیٰ کہ تبت سے بھی چند کیسز رپورٹ ہو چکے تھے۔ ہر روز ایک نئی پالیسی آ رہی تھی۔ پہلے یونیورسٹی نے ہمیں وائرس سے بچائو کے حفاظتی طریقے بتائے۔ اگلے روز یونیورسٹی نے مہمانوں کے آنے پر پابندی لگا دی۔ اس کے کچھ دن بعد طالب علموں کے کیمپس سے باہر جانا بھی بند کر دیا۔ ہر یونیورسٹی کا یہی حال تھا۔ یونیورسٹی کے اندر ہر عمارت اپنی الگ احتیاط کر رہی تھی۔ طالب علموں کا ایک دوسرے کے ہاسٹل میں جانا بھی منع تھا۔ یعنی ہر یونٹ اور اس یونٹ کے اندر موجود سب یونٹ علیحدہ علیحدہ سطح پر وائرس کے خلاف اپنی حفاظت کر رہے تھے۔

میں اور میرے ساتھی اس وقت بہت زیادہ گھبرا گئے تھے۔ یونیورسٹی نے ہمیں ہر ممکن تسلی دی۔ ایک دن ہمیں بلا کر آن لائن گروسری کرنا بھی سکھایا تاکہ ہم اپنی ضرورت کی ہر چیز چینیوں کی طرح آن لائن خرید سکیں۔ ایک دو دفعہ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے بھی اشیائے خوردونوش بھی ملیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ بھی کئی ماہ تک ہر ہفتے پھل دیتی رہی۔ ان ہی دنوں یونیورسٹی نے روزانہ ہمارا جسمانی درجہ حرارت بھی چیک کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ہم سے روزانہ ایک کاغذ ہر دستخط بھی کروائے جاتے تھے تاکہ سب کے روزانہ سکول میں ہونے کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہمیں صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ اگر کوئی یونیورسٹی سے باہر جاتا ہے تو وہ واپس نہیں آ سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے وہ اس دوران وائرس کا شکار ہو چکا ہو اور یونیورسٹی واپس آنے کی صورت میں اپنے ساتھ وائرس بھی لیتا ہوا آئے۔

یونیورسٹیوں کے باہر بھی یہی صورتحال تھی۔ رہائشی عمارتوں میں مہمانوں کے آنے جانے پر پابندی لگ چکی تھی۔ عمارت کے رہائشی باہر آنے جانے کے لیے انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ پاس کا استعمال کر رہے تھے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں بغیر ماسک کے داخلہ ممنوع تھا۔ مالز، پارک یا کسی بھی عوامی جگہ میں داخلے کے  وقت نہ صرف درجہ حرارت چیک ہوتا تھا بلکہ ہیلتھ کوڈ بھی دیکھا جاتا تھا جو ایک ایپ میں موجود کسی بھی صارف کا کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ اور ویکسین کا ریکارڈ ہے۔

چین کے حالات اب کافی حد تک نارمل ہو چکے ہیں لیکن کچھ پابندیاں اب بھی باقی ہیں جیسے پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک کا استعمال، عوامی جگہوں ہر ہیلتھ کوڈ دیکھنے کے بعد داخل ہونے کی اجازت ملنا، یونیورسٹیوں میں روزانہ درجہ حرارت اور دستخط لینا وغیرہ وغیرہ۔ کچھ شہروں میں داخلے کے لیے منفی کورونا ٹیسٹ بھی درکار ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر حالات بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔ بھارت میں تو قیامت کا سماں ہے۔ ہم ان سے بھی سبق نہیں سیکھ رہے۔ حکومت کی طرف سے جو تھوڑا بہت کیا جا رہا ہے، عوام اس کی بھی پابندی نہیں کر رہے۔ گھروں میں دعوتیں ہو رہی ہیں، بازاروں میں  ہر کوئی پہنچا ہوا ہے، شادیاں بھی ہو رہی ہیں اور ان میں لوگ دور دراز سے شرکت کرنے آ رہے ہیں۔

چین کے لاک ڈاؤن کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ چینی عوام کا اس لاک ڈاؤن پر عمل کرنا تھا۔ اگر وہ اپنی حکومت کی بات نہ مانتے، ہر بندہ اپنا فرض انجام نہ دیتا تو آج یہاں بھی کورونا کی تیسری، چوتھی یا پانچویں لہر چل رہی ہوتی۔ اس مشترکہ کوشش کی وجہ سے ہی آج چین محفوظ ہے۔ اگر ہم بھی پاکستان کو کورونا فری دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں خود احتیاط کرنی ہوگی اور اپنی اور اپنے پیاروں کی جان بچانی ہوگی ورنہ ہمارا حال بھی وہی ہوگا جو آج بھارت کا ہے۔ اس حال سے ڈریں اور سوشل ڈسٹنسگ پر عمل کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی جان بچائیں۔