چین میں پہلی مرتبہ کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا | حالات حاضرہ | DW | 23.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

چین میں پہلی مرتبہ کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا

ایشیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں مسلسل کمی جب کہ لاطینی امریکا میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چین نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ کووڈ انیس کا کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا۔

  • دنیا بھر میں کووڈ انیس سے متاثرہ افراد کی تعداد پچاس لاکھ سے زائد ہو گئی۔

  • جنوبی امریکا کورونا وائرس کی وبا کا نیا مرکز، ایشیا میں کمی۔

  • بھارت میں کووڈ انیس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 3,728 جب کہ پاکستان میں 1,101 ہو گئی۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 53 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے جب کہ اب تک تین لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

امریکا میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد قریب ایک لاکھ ہو گئی ہے۔ امریکا کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک برازیل ہے جہاں اب تک 332,382 مریض سامنے آ چکے ہیں۔

چین میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا

ہفتے کے دن چین نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ کووڈ انیس کا کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا۔ یہ خطرناک وائرس گزشتہ برس دسمبر میں چین سے ہی پھیلنا شروع ہوا تھا۔ جنوبی کوریا میں ہفتے کے دن تئیس نئے کیس رپورٹ کیے گئے ہیں۔

ادھر لاطینی امریکی ممالک میں کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔ برازیل میں تین لاکھ تیس ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اکیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کولمبیا، پیرو، چلی اور ایکوڈور میں بھی کورونا کیسوں میں اضافہ ہوا ہے۔

عبادت گاہیں کھول دی جائیں، امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چرچوں اور دیگر عبادت گاہوں کو 'لازمی‘ قرار دیتے ہوئے انہیں کھولنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے امریکی ریاستوں کے گورنروں سے کہا کہ ویک اینڈ سے عبادت گاہوں کو کھول دیا جائے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کتنی ریاستیں صدر ٹرمپ کے اس مطالبے پر عمل کریں گی۔

ویڈیو دیکھیے 03:57

سویڈن اور کورونا وائرس: لاک ڈاؤن کیوں نہ کیا؟

کئی ریاستوں میں کورونا وائرس کے کیسوں میں کمی نہیں ہوئی ہے۔ اقتصادی مسائل کے پیش نظر ٹرمپ کی کوشش ہے کہ امریکا میں بزنس سیکٹر کو کھول دیا جائے۔ تاہم امریکا میں ہی کئی حلقے ایسے ہیں، جو کورونا لاک ڈاؤن میں نرمی کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی صورت حال

پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سترہ سو سے زائد نئے کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ مزید 34 افراد کی ہلاکت کے ساتھ مرنے والوں کی مجموعی تعداد 1,101 ہو گئی ہے۔

سب سے زیادہ کیسز اب بھی ملک کے دونوں بڑے شہروں یعنی کراچی اور لاہور میں ریکارڈ کی گئی۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایکٹیو کیسز کی تعداد بھی پینتس ہزار کے قریب ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:20

کورونا وائرس کی وبا میں پھیکی عید اور ویران عیدگاہیں

بھارت میں گزشتہ روز کووڈ انیس سے مزید 6,500 سے زائد افراد متاثر ہوئے جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد سوا لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

بھارت میں کووڈ انیس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 3,728 ہو چکی ہے۔

جرمنی میں لاک ڈاؤن مخالف مظاہرے متوقع

جرمنی کے متعدد شہروں میں کچھ گروپ اسی ویک اینڈ بھی کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہروں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ دارالحکومت برلن، اشٹٹ گارٹ، کولون، میونخ، فرینکفرٹ اور ہینوور میں اس ویک اینڈ بھی مظاہرے متوقع ہیں۔

ان گروپس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے نام پر لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہریوں کے آئینی حقوق کی تلفی ہو رہی ہے۔ گزشتہ ویک اینڈ پر ان شہروں میں ہزاروں افراد لاک ڈاؤن مخالف مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے۔

ش ح / ع ب (اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے)