چین: دوسری خلائی لیبارٹری خلا میں جانے کو تیار | سائنس اور ماحول | DW | 14.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چین: دوسری خلائی لیبارٹری خلا میں جانے کو تیار

چین اپنی دوسری تجرباتی خلائی لیبارٹری جمعرات کو خلا میں روانہ کر رہا ہے. آئندہ ماہ ایک انسان بردار خلائی مشن بھی روانہ کیا جائے گا۔ چینی حکومت کے مطابق یہ 2022ء تک خلا میں ایک مستقل انسان بردار اسٹیشن کی تیاری کا حصہ ہے۔

چین کے خلائی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھانا بیجنگ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ چینی صدر شی جِن پِنگ کا کہنا ہے کہ ملک کو ایک خلائی طاقت بنایا جائے گا۔ چین کی طرف سے سیٹیلائٹ تباہ کرنے والے میزائل کا تجربہ بھی کیا جا چکا ہے۔

سال 2013ء میں چین کی طرف سے ایک انسان بردار خلائی مشن بھیجا گیا تھا۔ تب تین خلابازوں نے 15 دن خلا میں گزارے تھے اور زمین کے مدار میں گردش کرتی تجرباتی خلائی لیبارٹری ’تیان گانگ ون‘ کے ساتھ کامیابی کے ساتھ ڈاکنگ بھی کی تھی۔

چین کی طرف سے ’تیان گانگ ٹو‘ کو جمعرات پندرہ ستمبر کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 10:00 (عالمی وقت کے مطابق دن دو بجے) سے کچھ دیر بعد خلا میں روانہ کیا جائے گا۔ یہ بات چین کے اسپین پروگرام کی ایک ترجمان نے بدھ 14ستمبر کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتائی، جو صحرائے گوبی میں واقع لانچنگ سائٹ سے براہ راست نشر کی گئی۔

خاتون ترجمان وُو پِنگ کے مطابق شیزو 11 خلائی جہاز کو دو خلابازوں کے ساتھ آئندہ ماہ یعنی اکتوبر میں خلائی مشن پر روانہ کیا جائے گا۔ اس مشن کے دوران یہ خلائی جہاز ’تیان گانگ ٹو‘ کے ساتھ ڈاکنگ بھی کرے گا۔ ترجمان کے مطابق خلاباز تیان گانگ ٹو میں متوقع طور پر ایک مہینے تک قیام کریں گے۔

سال 2013ء میں چین کی طرف سے ایک انسان بردار خلائی مشن بھیجا گیا تھا

سال 2013ء میں چین کی طرف سے ایک انسان بردار خلائی مشن بھیجا گیا تھا

اگر 15 ستمبر کو چین کی تجرباتی خلائی لیبارٹری تیان گانگ ٹو کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر دیا جاتا ہے تو یہ چین کے قومی دن کے حوالے سے ہفتہ بھر طویل تقریبات کا ٹیکنالوجی کے حوالے سے نقطہٴ عروج ہو گا۔

چین اپنے پہلے خلائی اسٹیشن کے لیے ’کور موڈیول‘ یا اس اسٹیشن کا بنیادی حصہ 2018ء میں کسی وقت زمینی مدار میں پہنچائے گا۔ یہ بات ایک سینیئر اہلکار کی طرف سے رواں برس اپریل میں بتائی گئی تھی۔ یہ دراصل 2022ء تک زمینی مدار میں ایک مستقل انسان بردار خلائی اسٹیشن کے قیام کا حصہ ہے۔

چین اپنے خلائی پروگرام کو فوجی، تجارتی اور سائنسی مقاصد کے لیے فروغ دے رہا ہے تاہم وہ اس میدان میں امریکا اور روس جیسی بڑی طاقتوں سے ابھی بہت دور ہے۔

چین نے اپنا روور چاند کی سطح پر 2013ء میں پہنچایا تھا۔ تاہم امریکا اور روس یہ کامیابی کئی دہائیاں قبل ہی حاصل کر چکے ہیں جبکہ امریکا مریخ پر بھی اپنی روبوٹ گاڑیاں پہنچا چکا ہے، جو وہاں کی سطح اور فضا کے بارے میں زمینی اسٹیشن کو معلومات فراہم کرتی رہی ہیں۔