چینی ٹینس کھلاڑی کی کال کافی نہیں، ویمن ٹینس ایسوسی ایشن | کھیل | DW | 22.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

چینی ٹینس کھلاڑی کی کال کافی نہیں، ویمن ٹینس ایسوسی ایشن

چین کی مشہور ٹینس کھلاڑی پینگ شوائی نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔ جس میں چینی کھلاڑی نے اپنے بارے میں ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کے خدشات کا کوئی زکر نہیں کیا۔

اس ٹیلی فون کال کی تصدیق ویمن ٹینس ایسوسی ایشن نے ضرور کی لیکن ساتھ یہ کہا کہ ٹینس کھلاڑی پینگ شوائی نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر کے ساتھ ٹیلیفونک بات چیت میں اپنی صورتحال اور معاملات زندگی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی اور یہ بات چیت عالمی خدشات کے تناظر میں کافی نہیں ہے۔

فرنچ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں بھی میچ فکسنگ کا شبہ، تفتیش شروع

چین سے تعلق رکھنے والی خاتون ٹینس کھلاڑی پینگ شوائی ڈبلز کی عالمی نمبر ون رہ چکی ہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں حالیہ دنوں میں بین الاقوامی ٹینس حلقوں میں خدشات پائے جاتے ہیں۔

Tennis IOC-Präsident Thomas Bach im Gespräch mit Peng Shuai per Videoanruf

پینگ شوائی کی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھوماس باخ کے ساتھ ٹیلیفون بات چیت کی تصدیق کی گئی ہے

خدشات کی وجوہات

خدشات اُس وقت ابھرے جب تین ہفتے قبل انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ وہ سابق نائب وزیر اعظم ژانگ گاؤلی کی جنسی زیادتی کا نشانہ بن چکی ہیں۔ اس بیان کے بعد ان کے حوالے سے ایسے خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ وہ کہیں ریاستی جبر کا نشانہ نہ بن جائیں۔

دوسری جانب چینی حکومت اور سابق وزیر اعظم کی جانب سے پینگ شوائی کے مبینہ الزام کے حوالے سے کوئی بیان یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

پینگ شوائی کی نئی تصاویر

ہفتہ بیس نومبر کو چینی کھلاڑی اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ڈنر میں شریک ہونے کے علاوہ بچوں کے ٹینس ٹورنامنٹ کو بھی دیکھنے گئی تھیں۔ ان دونوں مقامات پر ان کی موجودگی کی ویڈیوز اور تصاویر چین کے سرکاری میڈیا پر شائع کی گئیں۔ اس پیش رفت کے باوجود عالمی خدشات میں کمی نہیں آئی۔

نوواک جوکووچ لائن جج کو بال مارنے کی پاداش میں یو ایس اوپن سے باہر

ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پینگ شوائی کی حالیہ ویڈیوز اور تصاویر ان خدشات کی مناسب انداز میں نفی کرنے کے لیے ناکافی ہیں جو ان کی مجموعی زندگی کے حوالے سے پیدا ہو چُکے ہیں۔

China chinesische Tennisspielerin Peng Shuai

پینگ شوائی ایک میچ کے بعد ٹینس بال پر دستخط کرتے ہوئے

ترجمان کے مطابق ابھی تک انہوں نے بظاہر کوئی ایسا بیان نہیں دیا جو سینسر شپ یا جبر کے بغیر ہو۔ ترجمان نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر سے پینگ شوائی کے ساتھ  فون پر ہونے والی گفتگو کی مناسبت سے کہا کہ یہ بھی خدشات کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کیونکہ صورت حال پر پھیلی دھند چَھٹی نہیں ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایسوسی ایشن پینگ شوائی کے حوالے سے آزادانہ اور شفاف تفتیش کے مطالبے سے بھی دستبردار نہیں ہوئی ہے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا بیان

پینگ شوائی کی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھوماس باخ کے ساتھ ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو کے حوالے سے کمیٹی نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان کے مطابق یہ تیس منٹ طویل ٹیلیفون کال تھی۔ انہوں نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھوماس باخ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ وہ بیجنگ میں  اپنے گھر میں بالکل محفوظ اور خیریت سے رہ رہی ہیں۔ انہوں نے باخ سے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے۔

ماریا شارا پووا نے ٹینس کو خیرباد کہہ دیا

خدشات اور انتباہ

چینی خاتون کھلاڑی کے جنسی زیادتی کے بیان اور پھر ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کی جانب سے شفاف تفتیش کے مطالبے نے عالمی سطح پر ان کے حوالے سے پیدا خدشات میں شدت پیدا کر دی ہے۔

Shuai Peng

پینگ شوائی نے کہا ہے کہ وہ سابق نائب وزیر اعظم ژانگ گاؤلی کی جنسی زیادتی کا نشانہ بن چکی ہیں

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور تنظیموں نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ اگر چینی حکومت کھلاڑی کے الزام کے حوالے سے ضروری اقدام نہیں کرتی تو وہ اگلے برس فروری میں چینی میزبانی میں منعقد کیے جانے والے سرمائی اولمپک گیمز کا بائیکاٹ کریں۔

ویمن ٹینس ایسوسی ایشن نے بھی متنبہ کیا ہے کہ پینگ شوائی کے حوالے سے معاملات میں مناسب پیش رفت نہ ہوئی تو چین میں کھیلے جانے والے خواتین کے ٹینس ٹورنامنٹس کا انعقاد روک دیا جائے گا۔ امریکا اور برطانیہ نے بھی بیجنگ حکومت سے ٹینس کھلاڑی کے بارے میں درست اور مناسب تفصیلات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

ع ح/ ک م (روئٹرز)