چینی نوبل امن انعام یافتہ لیو شیاؤبو انتقال کر گئے | حالات حاضرہ | DW | 13.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی نوبل امن انعام یافتہ لیو شیاؤبو انتقال کر گئے

چین میں سیاسی اصلاحات کے لیے جدوجہد کرنے والے نوبل امن انعام یافتہ اکسٹھ سالہ لیو شیاؤبو آج چین کے شمال مشرقی شہر شین یانگ میں انتقال کر گئے ہیں۔ ناروے نوبل کمیٹی اور عالمی رہنماؤں نے ان کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

سرکاری ویب سائٹ پر جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ شیاؤبو کے مختلف اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور انہیں بچانے کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہو سکیں۔ لیو شیاؤبو کو 2009ء میں ریاست کے خلاف اقدامات کے الزام میں 11 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیو شیاؤ بو جگر کے کینسر میں مبتلا تھے۔

امریکا نے چینی نوبل انعام یافتہ لیو شیاؤبو کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے چین سے اُن کی اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی خارجہ سیکریٹری ریکس ٹلرسن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شیاؤ بو کو پر امن جمہوری اصلاحات کے نفاذ کی کوششیں کرنے پر طویل قید کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹلرسن نے چین سے شیاؤبو کی اہلیہ کی نظر بندی ختم کرنے اور اُنہیں چین چھوڑنے کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

Liu Xiaobo (picture-alliance/AP)

چینی حکومت نے شیاؤبو کو بیرون ملک منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی

دوسری جانب بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں اور ناروے نوبل کمیٹی نے ان کی وفات پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ناروے نوبل کمیٹی نے اس حوالے سے چین پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ اس کمیٹی کا کہنا تھا کہ  لیو شیاؤبو کے قبل از وقت انتقال کا ذمہ دار چین ہے۔

قبل ازیں شیاؤبو کے علاج کے لیے چینی عدالتی بیورو نے بین الاقوامی ماہرین کو معاونت کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ اس کے جواب میں امریکی ریاست ٹیکساس کے انتہائی اہم کینسر ریسرچ ہسپتال کے ڈاکٹر اور جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ میں واقع انتہائی جدید کینسر ریسرچ ٹیچنگ ہسپتال کے ماہرین نے اُن کا معائنہ کیا تھا۔

چین نے نوبل امن انعام یافتہ رہنما لیُو شیاؤبو کو رہا کر دیا

دونوں غیر ملکی ڈاکٹروں نے چینی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ لیو شاؤبو کو امریکا یا جرمنی منتقل کر دیا جائے لیکن چینی حکومت نے شیاؤبو کو بیرون ملک منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

DW.COM

اشتہار