چینی راکٹ کی بے قابو واپسی، کیا ہو گا کچھ خبر نہیں | سائنس اور ماحول | DW | 08.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

چینی راکٹ کی بے قابو واپسی، کیا ہو گا کچھ خبر نہیں

چین کے لونگ مارچ فائیو راکٹ کا مرکزی حصہ بے قابو انداز سے زمینی کرہء ہوائی میں داخل ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے نقصان کے خطرات کس حد تک کے ہیں؟

چند ہی ہفتے قبل امریکی نجی کمپنی اسپیس ایکس کا فیلکون نائین راکٹ زمینی مدار میں اسٹار لنک ٹیلی کمیونیکشین سیٹیلائیٹ بھیج کر بے قابو انداز سے کرہء ہوائی میں داخل ہوا۔ اس راکٹ کی کرہء ہوائی میں بے قابو واپسی پر امریکا کی پورٹ لینڈ اور واشنگٹن ریاست کے رہائشیوں نے آسمان پر تیز روشنی دیکھی۔

چینی خلائی گاڑی چاند سے نمونے لے کر زمین پر واپس

چینی تحقیقاتی مشن چاند کے ’اوجھل حصے‘ پر اتر گیا

خلائی پرواز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے لونگ مارچ فائیو بی راکٹ کے ساتھ بھی اگلے چند روز میں کچھ ایسا ہی ہونا ہے۔ فی الحال سو فیصد تیقن سے نہیں کہا جا سکتا کہ چین کا چینگ زینگ فائیو بی یا لونگ مارچ فائیو بی راکٹ کیسے یا ٹھیک کس وقت اور کہاں سے زمینی کرہء ہوائی میں داخل ہو گا۔

تاہم یورپی خلائی ایجنسی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پچھلے بیس برسوں میں یہ سب سے بھاری بے قابو واپسی ہے۔ راکٹ کے کرہء ہوائی میں داخل ہونے والے ٹکڑے کی اصل کمیت تو معلوم نہیں ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ ٹکڑا ممکنہ طور پر تقریباﹰ اٹھارہ ٹن وزنی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عمومی حالات میں راکٹوں کی کرہء ہوائی میں واپسی کنڑولڈ طریقے سے ہوتی ہے، یعنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کب اور کہاں سے کرہ ہوائی میں داخل ہوا اور ممکنہ طور پر کہاں گرے گا۔ تاہم چینی لونگ مارچ فائیو راکٹ کا ڈیزائن ہی بے قابو واپسی سے متعلق ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس مئی میں بھی چین نے ایسے ہی ایک راکٹ کی بے قابو 'ری اینٹری‘ یا واپسی کروائی تھی۔

بھاری سامان بردار

چین کے لونگ مارچ فائیو راکٹوں کو 'بھاری سامان برادر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ فیلکون نائن یا یورپی خلائی ادارے کے آرین فائیو کی طرز پر ان راکٹوں کا کام بھاری سامان کی خلا تک ترسیل ہے۔

چین اس وقت اپنے خلائی اسٹیشن کی تیاری میں مصروف ہے اور اس کے تیان گونگ نامی خلائی اسٹیشن میں 'تیانہے‘ یا 'بہشتوں کی ہم آہنگی‘ نام کا کنٹرول مرکز بنایا جا رہا ہے۔ چینی راکٹ کا ڈیزائن عوام کے لیے دستیاب نہیں ہے تاہم ماہرین کے مطابق یہ پانچ بائی تیتینس اعشاریہ دو میٹر کے سیلنڈرکل حجم کا مالک ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:38

چینی چاند مشن کی خاص بات کیا ہے؟

شدید بے چینی

چوں کہ اس راکٹ کی ری اینٹری سے متعلق معلومات موجود نہیں ہے اس لیے یہ چہ مگوئیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ آیا اس کا کوئی ٹکڑا کسی آبادی والے علاقے میں گرے گا؟

یورپی خلائی ادارے کے مطابق اس راکٹ کے ممکنہ رسک علاقے اسپین، اٹلی اور یونان ہو سکتے ہیں۔ تاہم یورپی خلائی ادارے کے مطابق مداری انکلینیشن میں اکتالیس ڈگری کے تناسب سے نیویارک اور جنوبی چلی، نیوزی لینڈ حتیٰ کہ چینی دارالحکومت بیجنگ بھی خطرے کی زد میں ہیں۔

دوسری جانب چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ زمینی کرہء ہوائی میں داخل ہوتے ہی رگڑ کی قوت سے جل کر خاکستر ہو جائے گا اور اس کی وجہ سے کسی نقصان کے امکانات 'انتہائی کم‘ ہیں۔

ع ت، ش ح (ذوالفقار انبانے)