چینی تھِنک ٹینک کا انتباہ، کیا پراکسی جنگ کا اشارہ ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 30.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی تھِنک ٹینک کا انتباہ، کیا پراکسی جنگ کا اشارہ ہے؟

چین کے ایک طاقتور تھنک ٹینک کے نامور ریسرچر ہُو شیشانگ نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے سی پیک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو بیجنگ کو متحرک ہونا پڑے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ چین کس طرح کے اقدامات کرے گا۔

ہُو شیشانگ نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے بلوچستان اور پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر کا تذکرہ کیا، بیجنگ کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ کو خدشہ ہے بھارت پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکومت مخالف عناصر کو استعمال کرسکتا ہے ۔ اگر اس سے سی پیک منصوبے کو نقصان ہوا تو چین کو متحرک ہونا پڑے گا۔


تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی طاقتور چینی تھنک ٹینک کے ریسرچر نے اس طرح کا بیان دیا ہے۔ اس سے پاکستان کے علمی و سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کہیں پاکستان میں ایک اور پراکسی وار توہونے نہیں جا رہی۔ اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ امان میمن نے کہا، ’’اس بیان کوخطے کی صورتِ حال کے ساتھ جوڑ کردیکھنا چاہیے۔ امریکا اس خطے میں بھارت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ چین نے بھی خطے کے کئی ممالک میں مختلف نوعیت کے پراجیکٹس شروع کیے ہیں، جس کی وجہ سے بیجنگ کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے اور یہ بات نئی دہلی کو پسند نہیں۔ اسی لیے بھارت ساؤتھ چائنا سی کے مسئلے پر امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ بھارت کے خیال میں پاکستان نے کشمیر میں پراکسی وار شروع کی ہوئی ہے اور اب وہ بلوچستان، کراچی، گلت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر میں مختلف عناصر کو استعمال کر کے سی پیک کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس پر چین خاموش نہیں بیٹھے گا کیونکہ وہ اربوں ڈالرز خرچ کر رہا ہے۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر امان میمن کا کہنا تھا، ’’چین یہاں کوئی پراکسی نہیں چھوڑے گا لیکن صورتِ حال کچھ اس نوعیت کی ہوسکتی ہے کہ ایک طرف کشمیر میں مختلف تنظیمیں بھارت کے خلاف لڑیں گی اور بلوچستان میں لڑنے والے عناصر کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہوگی۔ عالمی سطح پر چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا اور امریکا نئی دہلی کے ساتھ۔‘‘


قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہ ء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکڑ فرحان حنیف صدیقی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستانی ریاست پہلے ہی یہ کہہ رہی ہے کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے بیجنگ کو ایسے شواہد دکھائے ہوں گے، جس میں بھارت کی مداخلت ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے چین کے ایک اہم تھنک ٹینک سے وابستہ ریسرچر نے ایسا بیان دیا ہے۔ چین اور بھارت کی اور مسائل پر بھی غیر اعلانیہ کشیدگی چل رہی ہے۔ مثال کے طور پر امریکا نے حال ہی میں بھارت سے لاجسٹک کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا ہے، جس پر چین کو تشویش ہے۔ چین جلد از جلد سی پیک کو مکمل کرنا چاہتا ہے۔ بلوچستان میں چینیوں پر ماضی میں بھی حملے ہوئے ہیں۔ اگر اس طرح کے حملے دوبارہ ہوتے ہیں تو یہ پراجیکٹ تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے، جس سے چین کو بہت نقصان ہوگا۔‘‘


لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر پراکسی جنگ کے اس نظریے سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے گھر کو بہتر کرنا ہے۔ میرے خیال میں مسئلہ ہمارا اپنا ہے۔ ایم کیو ایم اور افغان طالبان کو باہر کی قوتوں نے تو نہیں پالا۔ اِن کو ہماری ہی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد حاصل رہی ہے۔ ہمیں دہشت گردی کے حوالے سے سخت مؤقف اپنانا پڑے گا۔ چین نے اپنے مغربی صوبے اور وسطی ایشیاء سے انتہا پسندی و دہشت گردی کو ختم کیا۔ تو یہ یہاں بھی ہوسکتا ہے اگر ہمارے لوگ اپنا قبلہ درست کر لیں۔‘‘

’’پاکستانی ریاست پہلے ہی یہ کہہ رہی ہے کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے‘‘

’’پاکستانی ریاست پہلے ہی یہ کہہ رہی ہے کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’سی پیک پر بھارت کے اعتراضات بے بنیاد ہیں۔ اس پراجیکٹ سے تو یہ خطہ کھل رہا ہے۔ بھارت سیاسی طور پر ایک پسماندہ ملک ہے جہاں ہندو طالبان ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آتے ہیں اور پھر وہ اسی طرح کے بے بنیاد پراپیگنڈے کرتے ہیں۔ چین خطے سے دہشت گردی و انتہا پسندی ختم کرنا چاہتا ہے اور وہ معاشی خوشحالی سے ختم ہوگی۔‘‘


وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ توصیف احمد خان نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’چین کی تجارت کا حجم بھارت سے بہت زیادہ ہے۔ یہ معاشی مقابلے کا دور ہے اور چین کسی عسکری تنازعے میں پڑنا نہیں چاہتا۔ میرے خیال میں چینی ریسرچر کے اس بیان کو پاکستان میں بڑھا چڑھا کر بیان کیا جارہا ہے۔ چین کسی پراکسی جنگ کا حصہ بننے نہیں جارہا۔ بیجنگ کو معاشی مفادات عزیز ہیں اور اس کے لیے کسی بھی جنگ میں کودنا، چاہے وہ پراکسی ہو یا کسی اور نوعیت کی، اس کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘