چیمپئنز ٹرافی: پاکستان ٹورنامنٹ سے تقریباً خارج | کھیل | DW | 11.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

چیمپئنز ٹرافی: پاکستان ٹورنامنٹ سے تقریباً خارج

انگلینڈ میں کھیلے جانے والے کرکٹ کے اہم ٹورنامنٹ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو مسلسل دوسری شکست کا سامنا رہا۔ پاکستانی بیٹنگ پھر ناکام ہو گئی۔ جنوبی افریقہ نے 67 رنز سے پاکستانی ٹیم کو ہرایا۔

پاکستان کی بیٹنگ ایک مرتبہ پھر ناکام رہی اور بالروں کی کوشش کو خاک میں ملا دیا گیا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستانی ٹیم صرف 170 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تھی۔ پیر کے روز کھیلے گئے میچ میں پاکستانی ٹیم صرف 167 رنز بنا سکی۔ جنوبی افریقہ کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور ان کی ٹیم نے مقررہ پچاس اووروں میں 234 رنز بنائے۔

ایسے اندازے لگائے جا رہے تھے کہ برمنگھم کے ایجبیسٹن میدان کی سست اور بیٹنگ کے لیے قدرے ساز گار پچ پر پاکستانی بیٹسمین 235 کا ہدف حاصل کر لیں گے۔ لیکن مصباح الحق اور ناصر جمشید کے علاوہ بقیہ ٹیم بہتر کھیل پیش کرنے میں ناکام رہی اور پاکستانی ٹیم اپنے راؤنڈ کا دوسرا میچ بھی ہار گئی۔

Misbah-ul-Haq Pakistan Cricket New test captain

مصباح الحق کی ٹیم بہتر بیٹنگ پرفارمنس دینے میں ناکام رہی ہے

پیر کے روز کھیلے جانے والے میچ میں پاکستانی ٹیم کی گراؤنڈ فیلڈنگ کی ضرور تعریف کی گئی لیکن اگر ہاشم آملا کا کیچ عمر امین پکڑ لیتے تو شاید جنوبی افریقی ٹیم 234 سے کم اسکور پر آؤٹ ہو جاتی۔ ہاشم آملا کیچ گرائے جانے کے بعد 81 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ اس اہم کیچ کو چھوڑنے کے علاوہ فیلڈروں نے جنوبی افریقہ کے چار کھلاڑیوں کو رن آؤٹ بھی کیا۔ ان میں دو رن آؤٹ پاکستانی ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کیے۔ مصباح الحق کا نشانہ بننے والوں میں جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان اے بی ڈویلیئرز اور جین پال ڈُومینی شامل تھے۔ ڈویلیئرز نے 31 رنز بنائے اور ڈُومینی 24 رنز پر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی اننگز کا آغاز شاندار نہیں تھا۔ عمران فرحت دو اور محمد حفیظ صرف سات رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ شعیب ملک بھی کوئی بڑی کارکردگی دکھانے سے قاصر رہے اور وہ آٹھ کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔ گزشتہ میچ کی طرح پیر کے روز بھی کپتان مصباح الحق نے 55 کی اہم اننگ کھیلی۔ ویسٹ انڈیر کے خلاف وہ ناٹ آؤٹ 96 رنز بنانے میں کامیاب رہے تھے۔

A B de Villiers

جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان اے بی ڈویلیئرز

مصباح الحق کے علاوہ ناصر جمشید 42 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھتی رہی۔ فاسٹ میڈیم بالر ریان میکلارن نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستانی بیٹسمین جنوبی افریقہ کی کمزور بالنگ کے خلاف بہتر پرفارمنس دینے میں پوری طرح ناکام رہے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستانی ٹیم میں شاہد آفریدی جیسے تیز رفتار اسکور کرنے والے بیٹسمین کی اشد کمی دیکھی گئی۔ ان کے مطابق ناکام تجربہ کار کھلاڑیوں سے سجی پاکستانی ٹیم چیمپئنز ٹرافی کے دو میچوں میں کوئی بھی تاثر قائم کرنے میں ناکام رہی۔ دونوں میچوں میں بالنگ کا شعبہ ہی بہتر دکھائی دیا۔ کچھ ناقدین کے خیال میں موجودہ پاکستانی ٹیم میں آزمودہ مگر ناکام بیٹسمینوں کو باہر کر کے نئے کھلاڑیوں کو مسلسل کھلانے سے ہی مضبوط ٹیم کی تشکیل کا عمل مکمل ہو سکے گا۔

جنوبی افریقہ سے شکست کھانے کے بعد پاکستانی ٹیم تقریباً ٹورنامنٹ سے خارج ہو چکی ہے۔ دونوں میچوں میں کم اسکور کے باعث مجموعی رن ریٹ بھی انتہائی ناقص ہے۔ پاکستانی ٹیم کے اگلے راؤنڈ میں پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بڑے فرق سے بھارتی ٹیم کو پندرہ تاریخ کے میچ میں شکست دے۔ اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز اپنے بقیہ دونوں میچ بھاری فرق سے جیت لے لیکن بھارتی ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے میچ میں خاصا بڑا اسکور کیا تھا اور ایسا بہت ہی مشکل ہے کہ پاکستانی ٹیم اب اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر سکے۔

(ah/mm(AFP

اشتہار