چھ سالہ مہاجر بچی کی ہلاکت، والدين کی حکام کے خلاف کارروائی | مہاجرین کا بحران | DW | 20.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

چھ سالہ مہاجر بچی کی ہلاکت، والدين کی حکام کے خلاف کارروائی

کروشيا ميں ايک ٹرين سے ہلاک ہونے والی چھ سالہ افغان بچی کے والدين نے زغرب حکام کے خلاف قانونی کارروائی باقاعدہ طور پر شروع کر دی ہے۔ يہ اطلاع ان کے وکيل نے آج بروز بدھ دی ہے۔

مدينہ حسينی کے والدين نے اپنے مقدمے ميں يہ موقف اختيار کيا ہے کہ پناہ کی تلاش ميں بھٹکتے وقت کروشيا کی پوليس نے ان کے گروپ کو پکڑ کر واپس سربيا روانہ کر ديا تھا اور يہ حادثہ واپسی کے راستے ميں پيش آيا۔ کروشيا کے حکام اس الزام کو مسترد کرتے ہيں۔  

رواں سال نومبر ميں جب يہ واقعہ پيش آيا، تو اس وقت مدينہ حسينی پناہ کی تلاش ميں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ يورپ ميں تھی اور ان کی حتمی منزل برطانوی دارالحکومت لندن تھی۔ واقعے کے وقت مدينہ حسينی ديگر لوگوں کے ساتھ ريل گاڑی کی پٹری کے بالکل ہی قريب پيدل چل رہی تھی کہ گاڑی اس سے ٹکرا گئی۔ اس وقت يہ پناہ گزين خاندان کروشيا سے سربيا کے راستے پر گامزن تھا۔

مشرقی کروشيا ميں اس افغان خاندان کی خاتون وکيل نے بدھ کے روز بتايا کہ جن حالات ميں بچی کی ہلاکت ہوئی، انہيں مد نظر رکھتے ہوئے متعلقہ خاندان نے دفتر استغاثہ ميں شکايت درج کرا دی ہے۔ اب استغاثہ کی جانب سے يہ فيصلہ کيا جانا ہے کہ آيا شکايت پر مزيد کارروائی کی جائے۔ متعلقہ افغان مہاجر خاندان الزام عائد کرتا ہے کہ کروشيئن بارڈر حکام نے طاقت کا ناجائر استعمال کيا، غير انسانی سلوک کيا اور بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی، جس سبب ايک انسانی جان ضائع ہوئی۔

وکيل کے مطابق جس وقت کروشيا کی پوليس نے پچھلے ماہ نومبر ميں اس خاندان کو روکا، اس وقت وہ کروشيا کی حدود ميں تھے اور سياسی پناہ کی تلاش کے مطالبے پر پوليس حکام نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کيا اور انہيں ريلوے ٹريک پر لا کر سربيا واپس جانے کا حکم ديا۔ کروشيا کی وزارت داخلہ اس موقف کو مسترد کرتی ہے۔ اس کے مطابق اس خاندان نے رضاکارانہ بنيادوں پر سربيا واپس جانے کی حامی بھر لی تھی۔

چھ سالہ بچی کے ساتھ پيش آنے والے اس حادثے کی تفصيلات کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات موجود ہيں۔ حادثے کے بعد بچی کے والدين اس کی لاش کو واپس کروشيا کی پوليس اہلکاروں کے پاس لے گئے اور ايک ايمبولينس بلائی گئی۔ کروشيئن حکام کے مطابق حادثہ سربيا ميں پيش آيا۔

حسينی خاندان نے دو برس قبل افغانستان چھوڑا تھا۔ وہ ديگر کئی مہاجرين کے ہمراہ بلقان ممالک سے گزرتے ہوئے برطانيہ پہنچنے کے خواہاں تھے۔

اشتہار