چٹاگانگ ٹیسٹ میں عابد علی اور حسن علی کی ’واہ واہ‘ | کھیل | DW | 27.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

چٹاگانگ ٹیسٹ میں عابد علی اور حسن علی کی ’واہ واہ‘

چٹاگانگ میں جاری پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کے اختتام تک پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں کسی نقصان کے بغیر 145 رنز بنا لیے ہیں۔ بنگلہ دیشی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 330 رنز بنا سکی تھی۔

بنگلہ دیش کا دورہ کرنے والی پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم نے چٹاگانگ کے ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم میں جاری پہلے ٹیسٹ میچ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔

پانچ روزہ میچ کے دورسرے دن کے اختتام تک پاکستان اوپنرز عابد علی، اور اولین ٹیسٹ کھیلنے والے عبداللہ شفیق نے انتہائی عمدہ اور محتاط انداز میں بلے بازی۔

بائیس سالہ عبداللہ شفیق نے اپنی پہلی بین الاقوامی اننگز میں پچاس رنز بنانے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ ایک سو باون گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے وہ دو چھکوں اور دو چوکوں کی مد سے 52 رنز کے انفرادی اسکور پر کریز پر موجود ہیں۔

چونتیس سالہ عابد علی نے بھی 93 کے انفرادی اسکور پر ناقابل شکست ثابت ہوئے ہیں۔ اگر وہ اس میچ کے تیسرے دن سو رنز بنانے میں کامیاب ہوئے تو ٹیسٹ میچوں میں یہ ان کی چوتھ سنچری ہو گی۔ ایک سو اسّی گیندوں کا مقابلہ کرنے والے عابد علی نے دو چھکے اور نو چوکے بھی لگائے۔

قبل ازیں بنگل دیشی بلے بازوں نے جب دوسرے دن اپنی اننگز شروع کی تو وہ بالخصوص حسن علی سامنے بالکل بے بس نظر آئے۔ پہلے دن کے مجموعی اسکور دو 253 چار کھلاڑی آؤٹ کے تناظر میں معلوم ہو رہا تھا کہ بنگلہ دیشی بلے باز پاکستان کے سامنے ایک بڑا اسکور رکھنے میں کامیاب ہو جائیں۔

تاہم پہلے دن کے سنچورین لٹن داس اور بیاسی رنز پر ناٹ آؤٹ مشفق الرحیم جلد ہی پویلین لوٹ گئے۔ لٹن داس اپنے گزشتہ دن کے انفرادی اسکور میں ایک رن کا اضافہ کرتے ہوئے 114 پر حسن علی کا شکار بنے جبکہ مشفق الرحیم اپنے انفرادی ٹوٹل میں نو رنز شامل کر کے 91 کے سکور پر فہیم اشرف کی گیند پر وکٹ کیپر محمد رضوان کو کیچ دے بیٹھے۔

دوسرے دن کے تیسرے سیشن میں بالخصوص اسپن بولروں کو ٹرن ملنا شروع ہو گئی ہے۔

توقع ہے کہ کھیل جیسے جیسے آگے بڑھے گا وکٹ میں اسپنرز کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

اس صورتحال میں پاکستان کی کوشش ہو گی کہ اپنی پہلی اننگز میں ایک بڑا ٹوٹل کرے تاکہ اگر اسے اس وکٹ پر چوتھی اننگز کھیلنا پڑے تو جیت ہدف زیادہ بڑا نہ ہو۔

DW.COM